’ہمارے بالروں کے خلاف سازش ہے‘

محمد آصف اور محمد عامر
Image caption ’محمد آصف اور محمد عامر ہی ایسے بالر ہیں جو انگلینڈ کی ٹیم کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں اور محمد عامر ابھرتا ہوا نوجوان فاسٹ بالر ہے اور ان کے خلاف یقینی طور پر سازش ہے‘

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں پر سپاٹ فکسنگ کے الزام پر پاکستان میں لوگوں کی رائے مننقسم ہے۔ کچھ لوگ اس کو پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض پاکستانی کھلاڑیوں کو قصور وار گردانتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار ذوالفقار علی کو اسلام آباد میں واقع قائد اعظم یونیورسٹی میں ایم فل پروگرام کے طالبعلم اوم پرکاش نے بتایا کہ’ میرے خیال میں یہ ہمارے ان بالروں کے خلاف سازش ہے جو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ بین الااقوامی سطح پر ہمارے ٹیلینٹ کو دبایا جاتا رہا ہے اور اس کو نیچے گرانے کے لیے کوئی نہ کوئی حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں بھی پاکستانی بالروں کے خلاف سازشیں ہوتی رہی ہیں لیکن مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آخر پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف ہی ایسی سازشیں کیوں ہوتی ہیں‘۔

لیکن بعض پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کو قصور وار سمجھتے ہیں۔

آبپارہ میں ایک دوکان پر سیلز مین کے طور پر کام کرنے والے چوہدری صابر کو بھی کھلاڑیوں پر غصہ ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات غلط نہیں ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’جن پر الزامات ہیں انھیں سخت سزا دی جانی چاہیے اور انھیں پاکستان واپس نہ آنے دیا جائے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ان کھلاڑیوں کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی ہوئی اورملک کے وقار کو نقصان پہنچا اور دنیا میں پاکستان کی شبیہہ خراب ہوئی ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کے کھلاڑی پیسے کے لیے کھیلتے ہیں اور انھیں ملک کی کوئی پرواہ نہیں ہے‘۔

ادھیڑ عمر کے ٹیکسی ڈرائیور محمد رمضان کی رائے بھی مختلف نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں بہت دکھ ہوا ہے، پوری قوم بہت شوق سے کرکٹ میچ دیکھتی ہے لیکن آخر میں ہمارے دل ٹوٹ جاتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے لیکن ہمارے کھلاڑی پیسے کی خاطر بک جاتے ہیں، اپنا ایمان اور ضمیر بیچ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہماری ٹیم نے پوری قوم کے سر جھکا دیے ہیں۔

عبدالرؤف نے، جنکی اسلام آباد میں دوکان ہے، کہا کہ ان الزامات کی تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ صحیح صورت حال سامنے آئے۔ انھوں نے کہا کہ’ اگر یہ الزامات درست ہیں تو پھر پوری قوم کے لیے شرم کی بات ہے‘۔

اسلام آباد میں ایک دوکان پر سیلزمین کے طور پر کام کرنے والے محمد یوسف کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی کھلاڑی ماضی میں بھی بدعوانی میں ملوث رہے ہیں اور اب بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہ پاکستان کے لیے نہیں بلکہ پیسے کے لئے کھیلتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ کرکٹ میں اب پیسہ ہے، اب وہ کرکٹ رہی ہی نہیں ہے، ہمارے کھلاڑیوں کو پیسہ مل رہا ہے اور وہ کھیل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم میں پیسہ اور سیاست گھس گئی ہے اور جب تک اس کو ان دونوں چیزوں سے پاک نہیں کیا جاتا اسوقت تک بہتری نہیں آسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم کی جگہ نئے کھلاڑی لیے جانے چاہیئں اور انتظامیہ اور کوچ بھی تبدیل ہونےچاہیے۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے طالب علم محمد رمضان کا کہنا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی سٹے بازی اور دیگر بدعنوانیوں میں ملوث رہے ہیں لیکن اس بار پاکستان کے کھلاڑیوں کے سازش ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے ’محمد آصف اور محمد عامر ہی ایسے بالر ہیں جو انگلینڈ کی ٹیم کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں اور محمد عامر ابھرتا ہوا نوجوان فاسٹ بالر ہے اور ان کے خلاف یقینی طور پر سازش ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر برطانیہ کے میڈیا کا بھی یہ وطیرہ رہا ہے کہ یہ ہمیشہ پاکستانی بالروں کو نفسیاتی طور پر دباؤ میں رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

اسی بارے میں