قائمہ کمیٹی: استعفے کی دھمکی

Image caption کمیٹی کے تمام اراکین نے ’سپاٹ فکسنگ‘ کے حالیہ واقعات پر خاصی برہمی کا اظہار کیا

پاکستان کے پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کی کھیلوں کے بارے میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اقبال محمد علی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ سٹے بازی میں ملوث تمام کرکٹرز پر تاحیات پابندی لگائی جائے اور کرکٹ بورڈ کو فوری طور پر تحلیل کرکے عبوری بورڈ قائم کیا جائے۔

یہ مطالبہ انہوں نے کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ اگر حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ تحلیل نہیں کیا تو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے تمام اراکین استعفے دیں گے۔

جب ان سے پوچھا کہ اس کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے کہ کب تک اگر حکومت نے بورڈ تحلیل نہیں کیا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے تو انہوں نے جواب گول کردیا۔

انہوں نے بتایا کہ کمیٹی کے تمام اراکین نے ’سپاٹ فکسنگ‘ کے حالیہ واقعات پر خاصی برہمی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کرکٹ بورڈ کو تحلیل کرکے عبوری بورڈ تشکیل دیا جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی اور کھیلوں کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ جو بھی کھلاڑی سٹے بازی میں ملوث ہیں انہیں گرفتار کرکے جیل بھیجا جائے اور ان کے کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی عائد کی جائے، تاکہ آئندہ کوئی ایسی بری حرکت کا سوچے بھی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ لندن میں ڈیڑھ لاکھ پونڈ کے بدلے بالرز کی جانب سے جان بوجھ کر نو بال کرانے کے واقعہ سے پوری قوم کی دل آزاری ہوئی ہے۔

’ٹیم کی سیکورٹی کہاں ہے۔۔ کرنل نجم جو کھلاڑیوں کی سکیورٹی اور ان پر نظر رکھنے کے لیے لندن میں ہیں وہ کیا کر رہے ہیں۔۔ کرکٹ بورڈ کے حکام کیا کر رہے ہیں؟‘

انہوں نے کہا کہ لندن کے دورے کے بعد وہ کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈ کے حکام کو کمیٹی کے سامنے جواب طلبی کے لیے بلائیں گے۔

اسی بارے میں