’پاک کا ناپاک کھیل‘

محمد عامر
Image caption فکسنگ تنازعہ محمد عامر کے نام آنے پر میڈیا میں افسوس ظاہر کیا گیا ہے۔

پاکستان کی ٹیم میچ فیکسنگ اور جوئے کے الزامات میں گھری ہوئی ہو تو کرکٹ کے میدان پر روایتی حریف ہندوستان میں صحافیوں کی تخلیقی صلاحیتیں بھی جاگ جاتی ہیں۔

ہندی کے بڑے اخبار ’امر اجالا‘ کی سرخی ہے:’پاک کا ناپاک کھیل‘۔

یہاں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی کوریج کا یہ بھی یہی مرکزی خیال ہے۔ نو (نیا) بھارت ٹائمز کا کہنا ہےکہ ’پیسہ کھاکر ڈال رہے تھے نو بال۔۔۔ انہیں کھیل سے مطلب نہیں، بس پیسے، عورت اور کھانا چاہیے، سٹے باز مظہر مجید کا دعوی۔‘

ہندی اردو کے باقی اخبارات کی سرخیاں بھی تقریباً انہیں خطوط پر ہیں: ’کرکٹ کے مکہ میں پاک کا گناہ عظیم‘، ’پاک نے پیسہ لےکر پھینکی نو بال‘، ’اب سپاٹ فکسنگ نے کیا پاک کرکٹ کو بدنام‘، ’پاک کرکٹ اب سپاٹ فکسنگ سے ناپاک‘ اور ’پاکستان کرکٹ پر پھر چھایا فکسنگ کا سایہ، سات کھلاڑیوں سے پوچھ گچھ‘۔۔۔

Image caption اخبارات کے علاوہ ٹی وی چینلز پر کرکٹ سکینڈل کی خبر بڑی خبر ہے

انگریزی کے تمام اخبارات کی بھی یہ سب سے بڑی خبر ہے لیکن لفظوں سے زیادہ کھیلنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ تقریباً سبھی اخبارات نے مظہر مجید کے اس دعوے کو بھی نمایاں طور پر شائع کیا ہے کہ اس پورے معاملے میں ہندوستانی سٹے باز بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔

اپنے اداریے میں انڈین ایکسریس لکھتا ہے کہ ’سپاٹ یا میچ فکسنگ کے سکینڈل کرکٹ میں نئے نہیں ہیں۔حال ہی میں انگلینڈ کی کاؤنٹی کرکٹ پر بھی سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ جنوبی افریقہ کے کپتان ہنسی کرونیے نے دس سال پہلے میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا، لیکن اس دوران کھیل کو صاف کرنے کے لیے کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی ہے۔۔۔یہی وجہ ہے کہ جب پاکستانی ٹیم سے کسی کھلاڑی کو نکالا جاتا ہے تو قیاس آرائی شروع ہوجاتی ہے۔۔۔پاکستانی کرکٹ کے لیے یہ سکینڈل اس سے زیادہ خراب وقت پر نہیں آسکتا تھا کیونکہ سکیورٹی کی وجہ سے وہاں بین الاقوامی میچ پہلے ہی نہیں کرائے جاسکتے۔‘

لیکن جہاں ایک طرف اخبارات میچ فکسنگ کے ان الزامات کے ہر پہلو سے بھرے پڑے ہیں، ہندوستان ٹائمز نے اس بارے میں ایک مضمون شائع کیا ہے کہ پاکستان کو کبھی فاسٹ بالرز کی قلت کا سامنا کیوں نہیں ہوتا؟ جواب ہے کہ’عزت اور ورثے کی وجہ سے چلتی ہے پاکستان میں فاسٹ بالرز کی سپلائی لائن۔‘

سپاٹ فکسنگ میں جن چار کھلاڑیوں کا نام لیا گیا ہے ان میں محمد آصف اور محمد عامر بھی شامل ہیں۔ اس مضمون میں سابق کرکٹر آکاش چوپڑا نے لکھا ہے کہ اپنی تیز بالنگ اور سوئنگ سے جب محمد عامر آسٹریلوی کپتان رکی پانٹنگ کو نچا رہے تھے تو وہ دیکھنے لائق منظر تھا۔ پاکستانی کرکٹ میں طوفان کے باوجود وہاں شاندار فاسٹ بالرز کی کبھی کمی نہیں ہوتی۔۔۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان بالرز کو بے پناہ عزت دی جاتی ہے اور ان کے پاس فاسٹ بالنگ کا ورثہ ہے۔۔۔اور جب تک پاکستان کو بحیثیت ایک قوم اپنے فاسٹ بالرز کی کامیابیوں پر فخر رہے گا، درجنوں کی تعداد میں عامر جیسے فاسٹ بالر پیدا ہوتے رہیں گے۔‘

موجودہ حالات میں پاکستانی کرکٹ کو کب تک اپنے کھلاڑیوں پر فخر رہے گا اور آکاش چوپڑا کی پیش گوئی اچھی خبر ہے یا بری، یہ الزامات کی تفتیش کے بعد ہی پتہ چلے گا!

اسی بارے میں