’کھلاڑیوں کے مزید میچ کھیلنے کے امکانات کم‘

کامران اکمل، سلمان بٹ، محمد عامر، محمد آصف

اطلاعات کے مطابق سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے شبہ میں جن پاکستانی کھلاڑیوں سے تفتیش جاری ہے، ان کے اس دورے کے مزید میچوں میں کھیلنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار پیٹ مرفی کے مطابق ان کھلاڑیوں کو ٹیم میں اس بنیاد پر شامل نہیں کیا جائے گا کہ وہ صحیح طرح سے کھیل پر توجہ نہیں دے پائیں گے۔

ان کھلاڑیوں میں سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف شامل ہیں۔

آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارت کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مبینہ جوئے سکینڈل میں ’ملوث‘ تین پاکستانی کھلاڑی، پاکستانی ٹیم کے انگلینڈ کے باقی ماندہ دورے کا حصہ نہ رہیں۔’آئی سی سی چاہتی ہے کہ یہ کھلاڑی اس وقت تک نہ کھیلیں جب تک کہ پولیس اور کرکٹ حکام اپنی تحقیقات مکمل نہیں کر لیتے۔‘

ادھر برطانیہ میں کسٹم حکام نے لندن سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو اس سکینڈل کے ضمن میں گرفتار کرنے کے بعد ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ تاہم ان تینوں کو بعد ازاں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

’سپاٹ فکسنگ کی رپورٹ دی جائے‘

دریں اثنا پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر میڈیا ندیم سرور کا کہنا ہے کہ الزامات ثابت ہونے تک کسی کھلاڑی کو معطل نہیں کیا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو معطل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ ابھی تحقیقات ہو رہیں ہیں اور یہ الزامات ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

پولیس کی تفتیش کے علاوہ کرکٹ کی عالمی تنظیم آئی سی سی کے انسداد بد عنوانی یعنی اینٹی کرپشن یونٹ بھی اس معاملے کی تفتیش کر کے اس پر ایک ہنگامی رپورٹ تیار کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ یہ رپورٹ کچھ روز کے اندر آجائے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق آئی سی سی اخبار کی رپورٹ اور سکاٹ لینڈ یارڈ کی نامکمل تفتیش کی بنیاد پر متعلقہ کھلاڑیوں پر پابندی نہیں لگانا چاہتی لہذا اس نےاپنے اینٹی کرپشن یونٹ سے تفتیشی رپورٹ جلد طلب کر لی ہے۔

اینٹی کرپشن یونٹ کے اہلکار برطانیہ میں ہیں اور اس کام میں مصروف ہیں۔

آئی سی سی جمعرات کو اس سلسلے میں اخباری کانفرنس کرے گی۔

Image caption پاکستانی ٹیم اب سمرسٹ کے مقام ٹونٹن پہنچ گئی ہے

ہارون لوگارت نے بی بی سی ریڈیو فائو لائو کو بتایا کہ آئی سی سی چاہتی ہے کہ اتوار پانچ ستمبر کو کارڈف میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ سے پہلے پہلے یہ تفتیش مکمل ہو جائے۔

آئی سی سی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دورہ جاری رہے گا۔ آئی سی کے سربراہ شرد پوار نے کہا تھاکہ یہ ’آئی سی سی اور پاکستان اور انگلینڈ کے کرکٹ بورڈز کی خواہش ہے۔‘

پاکستانی ٹیم:

پیر کو پاکستانی ٹیم لندن سے سمرسٹ کے شہر ٹونٹن روانہ ہو گئی جہاں وہ سمرسٹ کاؤنٹی کے خلاف میچ کھیلے گی۔ اطلاعات کے مطابق کچھ تماشائیوں نے ٹیم کو برا بھلا کہا۔

پاکستانی ٹیم کے مینیجر یاور سعید نے بتایا کہ ڈریسنگ روم میں ’سوبر‘ ماحول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک کوئی الزامات ثابت نہیں ہوتے وہ حقحقت نہ مانے جائیں۔

شین واٹسن کے انکشافات:

ادھر آسٹریلیا کے آل راؤنڈر شین وٹسن نے بتایا ہے کہ پچھلے سال انگلینڈ میں ایشز سیریز کے درمیان انہیں ایک بھارتی سٹے باز نے پیشکش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شخض نے دو مرتبہ ان سے لندن کے رائل کینزگٹن ہوٹل میں بات کی۔شین واٹسن نے کہا کہ انہوں نے ٹیم کے مینیجر کو اس کی رپورٹ کر دی تھی۔

شین واٹسن نے پاکستان کے نوجوان فاسٹ بالر محمد عامر سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ اتنا جوان اور قابل کھلاڑی اس معاملے میں پھنس گیا ہے۔

اسی بارے میں