’کارلوس کا گول تُکا نہیں تھا‘

رابرٹو کارلوس
Image caption رابرٹو کارلوس نے دنیا کو حیران کر دیا تھا

ماہرِ طبیعات نے فٹبال کی تاریخ کے سب سے حیرت انگیز گول کی وضاحت کی ہے۔ اسے تقریباً ناممکن گولوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔

یہ گول 1997 میں برازیل کے رابرٹو کارلوس نے فرانس کے خلاف ایک فری کک کے ذریعے کیا تھا۔ ان کی لگائی کک سے فٹبال اتنی تیزی سے ہوا میں مڑا کہ فرانس کے گول کیپر فیبئن بارتھیز ایک جگہ حیران کھڑے اسے دیکھتے رہ گئے۔

نیو جرنل آف فزکس میں چھپنے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ کہنا کہ یہ ایک تکا یا احسن اتفاق تھا غلط ہے۔

فرانس کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس گیند کی ٹریجکٹری یا خطِ مستدیر کا بغور مطالعہ کر کے اسے سمجھنے کا ایک کلیہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا دوبارہ بھی کیا جا سکتا ہے بس شرط ہے کہ بال کو بہت زور سے کک لگائی جائے، اس میں مناسب سپن ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کک گول سے ایک خاص فاصلے سے لگائی جائے۔

رابرٹو کارلوس نے یہ حیرت انگیز گول فرانس کے خلاف ایک دوستانہ میچ میں کیا تھا۔

اس وقت بہت سے ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ گول فزکس کے اصولوں کی نفی کرتا ہے۔ لیکن نئی تحقیق میں اس کے زاویے کو سمجھایا گیا ہے۔

تحقیق کے اہم رکن کرسٹوفی کلینٹ کا کہنا ہے کہ جوں جوں بال ہوا میں اڑتا چلا جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس کا زاویہ بھی بدلتا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کیونکہ رابرٹو کارلوس نے یہ کک ایک سو پندرہ فٹ کے فاصلے سے لگائی تھی اس لیے اس کی ٹریجکٹری یا گیند کا ہوا میں مڑنا زیادہ نظر آیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گیند فزکس کے قوانین کے مطابق ہی گول میں گیا تھا۔

Image caption رابرٹو کارلوس کے فرانس کے خلاف کیے جانے والے گول کا حیرت انگیز زاویعہ

اسی بارے میں