آخری وقت اشاعت:  اتوار 5 ستمبر 2010 ,‭ 06:15 GMT 11:15 PST

سپاٹ فکسنگ: چوتھے کھلاڑی کا معمہ

پاکستانی کھلاڑی

بی بی سی کے مطابق آئی سی سی نے کامران اکمل کو بھی معلومات مہیا کرنے کے لیے لکھا تھا

برطانوی اخبار ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ نے انکشاف کیا ہے کہ کرکٹ کا بین الاقوامی ادارہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کے ایک اور کھلاڑی سے پوچھ گچھ کر رہا ہے۔

اخبار نے یہ بھی دعوٰی کیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے اوپنر یاسر حمید نے دیگر کھلاڑیوں کے بھی میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں اخبار کے ساتھ گفتگو کی ہے جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

آئی سی سی نے پہلے ہی تین پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کو انگلینڈ کے خلاف چوتھے ٹیسٹ میچ میں سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے بعد کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے سے روک دیا تھا۔ لندن پولیس نے جمعہ کو سپاٹ فکسنگ کے الزام میں محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کو تھانے میں بلا کر ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔

تاہم تفتیش کے باوجود پولیس نے ابھی تک ان تینوں پاکستانی کھلاڑیوں پر باضابطہ الزام عائد نہیں کیا ہے

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

بی بی سی کے سپورٹس ایڈیٹر ڈیوڈ بانڈ کے مطابق آئی سی سی نے چوتھے کھلاڑی سے پوچھ گچھ ضرور کی ہے لیکن اس کا تعلق لارڈز ٹیسٹ سے نہیں ہے۔ تاہم آئی سی سی نے اس کی تردید کی ہے کہ وہ کسی چوتھے کھلاڑی سے سپاٹ فکسنگ کے متعلق پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

آئی سی سی کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم اس کے متعلق کوئی بیان نہیں دے رہے کہ آئی سی سی کسی چوتھے کھلاڑی سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔۔۔ ہم جاری تحقیقات کے متعلق کوئی بیان نہیں دیتے، ہم (بٹ، آصف اور عامر) پر لگائے گئے الزمات کی بھی کچھ تفصیل نہیں بتائیں گے‘۔

اخبار دی نیوز آف دی ورلڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں پر تیئس الزمات لگائے گئے ہیں۔ نیوز آف دی ورلڈ کے سپورٹس ایڈیٹر پال میکارتھی نے بی بی سی کو اس بارے میں بتایا ہے کہ ’تین کھلاڑیوں کے خلاف تئیس الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک الزام کی تفصیل چھ صفحات پر مبنی ہے‘۔

پاکستانی کھلاڑی

تین پاکستانی کھلاڑیوں کو عارضی طور پر معطل کیا جا چکا ہے

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ کپتان سلمان بٹ کو آئی سی سی نے پانچ مرتبہ متنبہ کیا تھا اور بطور کپتان ان کو یہ ذمہ داری بھی یاد دلائی گئی تھی کہ وہ کسی بھی بیرونی ادارے کی جانب سے کسی بھی رابطے سےآگاہ کریں گے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آئی سی سی ایک چوتھےفرد ، ایک چوتھےکھلاڑی کے خلاف بھی تحقیقات کررہی ہے‘۔

اخبار نے چوتھے کھلاڑی کا نام قانونی وجوہات کی بنا پر شائع نہیں کیا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ آئی سی سی نے کامران اکمل کو ممکنہ طور پر گزشتہ بارہ ماہ کے واقعات کے متعلق معلومات مہیا کرنے کے لیے لکھا تھا۔

ادھر نیوز آف دی ورلڈ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اوپنر یاسر حمید کو اسپاٹ فکسنگ کے حالیہ سکینڈل اور دیگر کھلاڑیوں کے بھی میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں بات کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم یاسر حمید نے نیوز آف دی ورلڈ کے ساتھ ایسی کسی گفتگو سے انکار کیا ہے۔

ایک علیحدہ پیش رفت میں کرائڈن ایتھلیٹک نامی فٹبال کلب مینیجر ٹم او شیے اور ان کے نائب نیل اسمتھ نے فوری طور پر کلب سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ کرکٹ کے سٹے بازی کے سکینڈل کے مرکزی کردار مظہر مجید اس کلب کے مالکان میں شامل ہیں۔

تفضل رضوی سلمان بٹ کے ہمراہ

پولیس تینوں کرکٹرز کو دوبارہ طلب کرسکتی ہے:تفضل رضوی

اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے کہا تھا کہ پاکستانی کرکٹرز کو مظہر مجید کے بارے میں قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ اس کی سرگرمیاں مشکوک یا غیر قانونی ہوسکتی ہیں اور وہ اسے صرف اپنے ایجنٹ کے طور پر جانتے تھے۔

بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور سے خصوصی گفتگو کے دوران تفضل حیدر رضوی نے کہا کہ سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر نے لندن پولیس کی تفتیش کے دوران یہ موقف اختیار کیا کہ مظہر مجید ان کا ایجنٹ ہے جو سپانسر شپ دلانےمیں ان کی مدد کرتا رہا ہے۔ وہ یہ کام گزشتہ کئی برس سے کرتا رہا ہے اور حالیہ برسوں میں کئی کرکٹرز اس کے کنٹریکٹ پر تھے۔

تفضل حیدر رضوی نے کہا کہ ان تینوں کرکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ قطعاً اس بات سے بےخبر تھے کہ مظہرمجید کی سرگرمیاں غیر قانونی اور مشکوک ہو سکتی ہیں کیونکہ بظاہر وہ بہت مالدار شخص ہے جس کا اپنا فٹبال کلب بھی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔