آخری وقت اشاعت:  اتوار 5 ستمبر 2010 ,‭ 12:28 GMT 17:28 PST

’کھلاڑی قصوروار ہوں تو تاحیات پابندی لگا دیں‘

واجد شمس الحسن

’ہم پولیس نہیں، وہ قصوروار ہیں یا نہیں یہ معلوم کرنا پولیس کا کام ہے‘

برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کہا ہے کہ اگر سپاٹ فکسنگ کے الزام میں زیرِ تفتیش تینوں پاکستانی کھلاڑی قصوروار پائے گئے تو ان پر عمر بھر کے لیے پابندی لگنی چاہیے۔

سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف سے لارڈز ٹیسٹ میں سپاٹ فکنسگ کے الزامات پر پولیس اور بین الاقوامی کرکٹ کونسل کا انسدادِ رشوت ستانی یونٹ تفتیش کر رہا ہے۔

واجد شمس الحسن نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر برطانوی اخبار ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ کے ان کھلاڑیوں کے خلاف الزامات درست ہیں تو ان کے خلاف عمر بھر کے لیے پابندی لگا دینی چاہیے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ جب تک ان کھلاڑیوں پر الزام ثابت نہیں ہو جاتا وہ ان کو بیگناہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا شروع سے یہی موقف رہا ہے اور وہ اس پر قائم ہیں۔ہائی کمشنر نے کہا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے ان کھلاڑیوں سے بات چیت کے بعد یہی محسوس کیا کہ بظاہر یہ تینوں بے قصور ہیں۔ ’لیکن ہم پولیس نہیں، وہ قصوروار ہیں یا نہیں یہ معلوم کرنا پولیس کا کام ہے۔‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

دریں اثناء ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی سی سی پاکستان کے ایک اور کھلاڑی سے بھی پوچھ گچھ کر رہا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس چوتھے کھلاڑی سے ’میچ فکسنگ‘ کے الزامات کی تفتیش ہو رہی ہے جو مذکورہ تینوں کھلاڑیوں پر لگنے والے ’سپاٹ فکسنگ‘ کے الزام سے زیادہ سنجیدہ الزام ہے۔

آئی سی سی کے ترجمان نے کہا کہ ’ہم اس کے متعلق کوئی بیان نہیں دے رہے کہ آئی سی سی کسی چوتھے کھلاڑی سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔۔۔ ہم جاری تحقیقات کے متعلق کوئی بیان نہیں دیتے، ہم (بٹ، آصف اور عامر) پر لگائے گئے الزمات کی بھی کچھ تفصیل نہیں بتائیں گے‘۔

اخبار نے یہ بھی دعوٰی کیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے اوپنر یاسر حمید نے دیگر کھلاڑیوں کے بھی میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں اخبار کے ساتھ گفتگو کی ہے جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

آئی سی سی نے پہلے ہی تین پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کو انگلینڈ کے خلاف چوتھے ٹیسٹ میچ میں سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے بعد کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے سے روک دیا تھا۔ لندن پولیس نے جمعہ کو سپاٹ فکسنگ کے الزام میں ان تینوں کھلاڑیوں کو تھانے میں بلا کر ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔

پاکستانی کھلاڑی

تین پاکستانی کھلاڑیوں کو عارضی طور پر معطل کیا جا چکا ہے

پولیس نے ابھی تک ان تینوں پاکستانی کھلاڑیوں پر باضابطہ الزام عائد نہیں کیا ہے

بی بی سی کے سپورٹس ایڈیٹر ڈیوڈ بانڈ کے مطابق آئی سی سی نے چوتھے کھلاڑی سے پوچھ گچھ ضرور کی ہے لیکن اس کا تعلق لارڈز ٹیسٹ سے نہیں ہے۔ تاہم آئی سی سی نے اس کی تردید کی ہے کہ وہ کسی چوتھے کھلاڑی سے سپاٹ فکسنگ کے متعلق پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

اخبار دی نیوز آف دی ورلڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں پر تئیس الزمات لگائے گئے ہیں۔ نیوز آف دی ورلڈ کے سپورٹس ایڈیٹر پال میکارتھی نے بی بی سی کو اس بارے میں بتایا ہے کہ ’ان میں سے ہر ایک الزام کی تفصیل چھ صفحات پر مبنی ہے‘۔

تفضل رضوی سلمان بٹ کے ہمراہ

پولیس تینوں کرکٹرز کو دوبارہ طلب کرسکتی ہے:تفضل رضوی

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ کپتان سلمان بٹ کو آئی سی سی نے پانچ مرتبہ متنبہ کیا تھا اور بطور کپتان ان کو یہ ذمہ داری بھی یاد دلائی گئی تھی کہ وہ کسی بھی بیرونی ادارے کی جانب سے کسی بھی رابطے سےآگاہ کریں گے۔ اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آئی سی سی ایک چوتھےفرد ، ایک چوتھےکھلاڑی کے خلاف بھی تحقیقات کررہی ہے‘۔

اخبار نے چوتھے کھلاڑی کا نام قانونی وجوہات کی بنا پر شائع نہیں کیا۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ آئی سی سی نے کامران اکمل کو ممکنہ طور پر گزشتہ بارہ ماہ کے واقعات کے متعلق معلومات مہیا کرنے کے لیے لکھا تھا۔

ادھر نیوز آف دی ورلڈ نے اپنی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں اوپنر یاسر حمید کو اسپاٹ فکسنگ کے حالیہ سکینڈل اور دیگر کھلاڑیوں کے بھی میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں بات کرتے دکھایا گیا ہے۔ تاہم یاسر حمید نے نیوز آف دی ورلڈ کے ساتھ ایسی کسی گفتگو سے انکار کیا ہے۔

ایک علیحدہ پیش رفت میں کرائڈن ایتھلیٹک نامی فٹبال کلب مینیجر ٹم او شیے اور ان کے نائب نیل اسمتھ نے فوری طور پر کلب سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ کرکٹ کے سٹے بازی کے سکینڈل کے مرکزی کردار مظہر مجید اس کلب کے مالکان میں شامل ہیں۔

ہم اس کے متعلق کوئی بیان نہیں دے رہے کہ آئی سی سی کسی چوتھے کھلاڑی سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔۔۔ ہم جاری تحقیقات کے متعلق کوئی بیان نہیں دیتے، ہم (بٹ، آصف اور عامر) پر لگائے گئے الزمات کی بھی کچھ تفصیل نہیں بتائیں گے

آئی سی سی

اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے کہا تھا کہ پاکستانی کرکٹرز کو مظہر مجید کے بارے میں قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ اس کی سرگرمیاں مشکوک یا غیر قانونی ہوسکتی ہیں اور وہ اسے صرف اپنے ایجنٹ کے طور پر جانتے تھے۔

بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور سے خصوصی گفتگو کے دوران تفضل حیدر رضوی نے کہا کہ سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر نے لندن پولیس کی تفتیش کے دوران یہ موقف اختیار کیا کہ مظہر مجید ان کا ایجنٹ ہے جو سپانسر شپ دلانےمیں ان کی مدد کرتا رہا ہے۔ وہ یہ کام گزشتہ کئی برس سے کرتا رہا ہے اور حالیہ برسوں میں کئی کرکٹر اس کے کنٹریکٹ پر تھے۔

تفضل حیدر رضوی نے کہا کہ ان تینوں کرکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ قطعاً اس بات سے بےخبر تھے کہ مظہرمجید کی سرگرمیاں غیر قانونی اور مشکوک ہو سکتی ہیں کیونکہ بظاہر وہ بہت مالدار شخص ہے جس کا اپنا فٹبال کلب بھی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔