پیسے کے لالچ سے بے ایمانی کا جنم

محمد عامر، محمد آصف، سلمان بٹ
Image caption سپاٹ فکسنگ کے معاملے کے بعد کرکٹ کی دنیا میں ہل چل مچ گئی ہے

اب سے دس برس پہلے جب ہمیں معلوم ہوا تھا کہ پیسہ بنانے کے لیے بعض کرکٹ کھلاڑی نے اپنی کارکردگی اور میچ کے نتائج پر سمجھوتہ کیا ہے تو ایک بڑا دھچکا لگا تھا۔ اس بات پر یقین نہیں آیا تھا۔

آج ہم اس دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہم طرح کے دھچکوں کے عادی ہوگئے ہیں۔

جب 1997 میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھارت کے دورے پر آئی تھی بھارت میں رہنے والے ایک سٹے باز نے کھلاڑیوں کو لبھانے میں میری مدد طلب کی۔ حالانکہ میں نے میچ فکسنگ کے بارے میں سنا تھا باوجود اسکے میں تعجب میں پڑ گیا کہ وہ ایسے کیسے کہہ سکتا ہے۔

جب میں نے اس بارے میں اپنے اخبار میں لکھا تو کھیل شائقین کو بالکل ایسے ہی یقین نہیں آیا جیسے پاکستانی کرکٹ شائقین کو حالیہ سپاٹ فکسنگ کے معاملے پر یقین نہیں ہورہا ہے۔

آج جب کوئی اٹھارہ سال کا ٹیلنٹڈ لڑکا کھلے عام میچ فکسنگ میں شامل ہوتا ہے تو سمجھ میں نہیں آتا کیا کہیں۔ کیا اسے پھانسی پر لٹکا دیں، یا اس بات پر غور کریں کن وجوہات سے اتنی آسانی نے اس نے اپنا کیرئیر مشکل میں ڈال دیا اور کیوں وہ پیسے کے لیے اپنے شائقین کا دل توڑتا ہے؟

مجھے لگتا ہے کہ ہم بے ایمانی اور لالچ کے ماحول میں اس ماحول میں رہتے ہیں جو ان کھلاڑیوں کو ایسے قدم اٹھانے پر اکساتا ہے کہ پیسہ بنانے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاؤ بھلے ہی آپ کی عمر کتنی ہی کم ہو اور آپ کتنے ہی باصلاحیت ہوں۔

پاکستان کے حکام خود کو اپنے کرپٹ طریقوں کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے آسٹریلیا کے خلاف سڈنی ٹیسٹ میں بعض کھلاڑیوں کے اپنے وکٹ کھونے کی بات کو چھپانے کی کوشش کی گئی تھی۔

آج کسی بھی ٹورنامنٹ کی کامیابی کا معیار اس بات سے طے ہوتا کہ اس میں حصہ لینے والے کھلاڑی کتنا پیسہ کمار ہے ہیں۔ کھیل کی پرواہ کم ہی لوگ کرتے ہیں۔

پیسے کمانے کے لالچ سے بے ایمانی کا جنم ہوتا ہے اور ایک ایسا ماحول تیار ہوتا ہے جب کامیابی کا مطلب پیسہ وہ چاہے کسے بھی طریقے سے کمایا گیا ہو۔ ایسے میں ہم امید کرتے ہیں کہ کھلاڑی اس سب سے دور رہیں۔

کھلاڑی بھی اسی سماج کا حصہ ہے اور وہ جب اپنے چاروں طرف دیکھتا ہے کہ پیسے نہ صرف آرام بلکہ عزت بھی خریدی جاسکتی ہے وہ خود کو اس سے دور نہیں رکھ پاتا ہے۔.

سچ تو یہ ہے کہ کرکٹ کی دنیا میں پیسے کے لالچ کو فروغ دینے والے بیشتر سٹے باز بھارتی ہیں۔ کیا ہمیں اس بات پر یقین کرلینا چاہیے کہ جوئے باز اتنے بڑے قوم پرست ہیں کہ وہ بھارتی کھلاڑیوں کو چھوڑ کر باقی ممالک کے کھلاڑیوں کو لالچ دے رہے ہیں۔یہ یقین کرنا معصومیت ہے۔

پردیپ میگزین ایک بھارتی صحافی ہیں جو بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا سے بطور مشیر امورِ کھیل وابستہ ہیں

اسی بارے میں