آخری وقت اشاعت:  اتوار 5 ستمبر 2010 ,‭ 07:04 GMT 12:04 PST

کھلاڑیوں کے کمروں سے نقد رقم برآمد

پاکستانی کھلاڑی

پاکستانی کھلاڑیوں کو کرکٹ کھیلنے سے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی اخبار نے اپنے ’سٹنگ آپریشن‘ کے لیے جو کیش رقم ایک ایجنٹ کو دی تھی اس میں سے چار ہزار پاؤنڈ پاکستانی ٹیم کے تین کھلاڑیوں کے کمروں سے ملے ہیں۔

بی بی سی کے سپورٹس ایڈیٹر ڈیوڈ بانڈ کے مطابق یہ کیش رقم اس وقت ملی جب لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے اکنامک اینڈ سپیشلسٹ کرائم یونٹ نے پاکستان ٹیم کے کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف اور محمد عامر کے کمروں کی تلاشی لی۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ پولیس افسروں کو ان کے کمروں سے بہت زیادہ رقم ملی لیکن اس میں سے صرف چار ہزار پاؤنڈ وہ تھے جو اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے رپورٹر نے ایجنٹ کو دیے تھے۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے نمبروں کے سیریل نمبر ملا کر ان نوٹوں کی شناخت کی ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کس کھلاڑی کے پاس سے کتنی رقم نکلی ہے۔

نیوز آف دی ورلڈ نے خفیہ طور پر کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید کو ایک لاکھ پچاس ہزار پاؤنڈ دیتے ہوئے اس کی فلم بنائی تھی۔ مظہر مجید نے اس فلم میں اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ کھلاڑی پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز میں ہونے والے چوتھے ٹیسٹ میچ کے خاص لمحات میں نو بال کروائیں گے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

محمد عامر اور محمد آصف نے پھر ان ہی لمحات میں نو بالز کیے جن کا ذکر مجید نے ویڈیو میں کیا تھا۔

پولیس نے گزشتہ اتوار پینتیس سالہ مظہر مجید کو مبینہ فراڈ کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا لیکن بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ پولیس نے ایک پینتیس سالہ خاتون جس کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ وہ مظہر مجید کی اہلیہ ہیں اور ایک انچاس سالہ شخص کو بھی گرفتار کیا تھا۔

دریں اثناء برطانوی اخبار ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ نے اپنے آج (اتوار) کے شمارے میں یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ کرکٹ کا بین الاقوامی ادارہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کے ایک اور کھلاڑی سے پوچھ گچھ کر رہا ہے۔

آئی سی سی نے پہلے ہی تین پاکستانی کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کو انگلینڈ کے خلاف چوتھے ٹیسٹ میچ میں سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے بعد کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے سے روک دیا تھا۔ ان سے برطانوی پولیس بھی پوچھ گچھ کر چکی ہے۔

بی بی سی کے سپورٹس ایڈیٹر ڈیوڈ بانڈ کے مطابق آئی سی سی نے چوتھے کھلاڑی سے پوچھ گچھ ضرور کی ہے لیکن اس کا تعلق لارڈز ٹیسٹ سے نہیں ہے۔تاہم آئی سی سی نے اس کی تردید کی ہے کہ وہ کسی چوتھے کھلاڑی سے سپاٹ فکسنگ کے متعلق پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔