یاسر حمید کو ٹریپ کیا گیا: آفریدی

Image caption کھلاڑیوں کو احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ بھیس بدل کر ان کا تعاقب کر رہا ہے: شاہد آفریدی

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ یاسرحمید کو ٹریپ کیا گیا ہے کیونکہ اسے اندازہ ہی نہیں ہوگا کہ اس سے کیا کچھ کہلوانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ نیوز آف دی ورلڈ کی وڈیو میں یاسر حمید پاکستانی کرکٹ میں میچ فکسنگ اور خود انہیں ملنے والی آفر کے بارے میں بات کررہے ہیں۔

یاسر حمید نے پہلے اس کی تردید کی اور پھر پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کا وضاحتی بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ انہوں نے اپنے طور پرکوئی بات نہیں کی بلکہ وہی باتیں کہیں جو میڈیا میں آچکی ہیں۔

شاہد آفریدی نے بی بی سی اردو سروس کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ یاسرحمید ٹریپ ہوئے ہیں کیونکہ انہیں قطعاً اس بات کا اندازہ نہیں ہوگا کہ ان کی گفتگو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ کچھ لوگ یقیناً ان سے ٹیم کی باتیں جاننا چاہتے ہونگے اور یاسر نے بھی انجانے میں باتیں کرڈالیں۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ یاسر حمید نے تین چار روز قبل عمرگل کو فون کیا تھا جس میں انہیں کسی کنٹریکٹ کے بارے میں بتایا تھا جس پر عمرگل نے ان سے کہا تھا کہ جو صاحب بھی یہ بات کررہے ہیں وہ کنٹریکٹ کی تفصیلات ای میل کردیں۔یاسر ان سے بھی بات کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اسوقت مصروف تھے لہذا بات نہ ہوسکی۔

پاکستانی کپتان سے جب پوچھا گیا کہ اس مرحلے پر کس قدر احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ میڈیا بھی بھیس بدل کر کھلاڑیوں کے تعاقب میں ہے تو انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو چاہئے کہ گروپ کی شکل میں شاپنگ یا کھانے پر جائیں اور اجنبی لوگوں سے کسی طرح کی گفتگو سے دور رہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم منیجمنٹ نے پہلے ہی کھلاڑیوں کو میڈیا سے بات کرنے اور انٹرویوز دینے سے منع کررکھا ہے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو اس وقت جیت کی اشد ضرورت ہے اور ان کی کوشش ہوگی کہ اگلے میچوں میں ٹیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔

پہلے ٹوئنٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں شکست کے بارے میں شاہد آفریدی نے کہا کہ اچھے اسٹارٹ کے بعد وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کے سبب ٹیم بڑا اسکور نہ کرسکی اور جب بولنگ آئی تو ابتدا میں وکٹیں حاصل کرنے کے بعد وہ اور سعید اجمل موثر بولنگ نہ کرسکے جبکہ فیلڈنگ بھی خراب رہی۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ٹیم ملنے والے مواقعوں سے فائدہ نہ اٹھائے جیتنا مشکل ہوتا ہے۔

اسی بارے میں