سٹے بازی کا خاتمہ، آئی سی سی کی حمایت

فائل فوٹو
Image caption میچ فکسنگ کے تینوں ملزم کھاڑی پاکستان واپس آگئے ہیں

میٹروپولیٹن پولیس کے سابق کمشنر لارڈ سٹیونز نےکرکٹ کھیل سے سٹّے بازی کو ختم کرنے کے لیے آئی سی سی اقدامات کی حمایت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر آئی سی سی چاہے تو بدعنوانی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کے الزام کے بعد سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر کھیل میں بدعنوانی کوختم نہ کر پانے پر نکتہ چینی ہوئی ہے۔

لارڈ سٹیوینز اس سے پہلے کھیل میں بد عنوانی کے کئی معاملات کی انکوائری کی سربراہی کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کو کرکٹ میں بدعنوانی کو ختم کرنا چاہیے۔ ’اس کے کئی طریقے ہیں اور بہتر طریقوں سے وہ ایسا کر سکتے ہیں۔‘

ایک برطانوی ’اخبار نیوز آف دی ورلڈ‘ نے دعوی کیا تھا کہ اس نے ایک بکی مظہر مجید کو نو بال کے لیے پیسے دیے تھے اور جس کے بعد سپاٹ فکسنگ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

تاہم لارڈ سٹیونز کا کہنا ہے کہ ’ہمیں عوامی مفاد کے لیے ایسا کرتے ہوئے نیوز آف دی ورلڈ پر ہی منحصر نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں، پولیس سمیت سبھی کو یقینی بنانا ہے کہ کھیل کو صاف کیا جائے۔‘

ریٹائرمنٹ کے بعد لارڈ سٹیونز نے کھیل میں بدعنوانی کے کئی معاملات کی تفتیش کی ہے اور انہیں اس بارے میں کافی تجربات حاصل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بہتر روابط سے فکسنگ کو روکا جا سکتا ہے جو زیادہ تر ایشیائی ممالک میں ہوتا ہے۔

’عالمی سطح پر ایسے قوانین بنانے کی بھی ضرورت ہے جس میں ان کارروائی کا بھی احاطہ کیا جا سکے، بالکل ویسے ہی جیسے دہشت گردی کے لیے ہم نے کیا ہے۔ جب تک یہ ہم نہیں کریں گے تب تک ہمارے پسندیدہ کھیل پر خطرات لاحق ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے اگلے بارہ ماہ کے اندر اس پر ایک عالمی کانفرنس کی ضرورت ہے جس میں تفتیش کار، میڈیا، اور وہ لوگ جو کرکٹ کو جانتے ہیں سب کو ساتھ لیا جا سکے۔ انٹر پول سمیت دیگر پولیس تنظیمیں سب ایک جگہ جمع ہوں پھر ہم اسے آکے لے جا سکتے ہیں۔ اب اس پر صرف بات کرنا نہیں عمل کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں