’ الزامات صرف پاکستان کی ٹیم پر ہی کیوں‘

Image caption ہم پس پردہ کرداروں کو بے نقاب کریں گے، اعجاز بٹ

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ نے کہا کہ کرکٹ ٹیم پر تازہ سپاٹ فکسنگ کے الزامات پاکستانی کرکٹ کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے۔

اعجاز بٹ نے دبئی سے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس معاملے کی مکمل تحقیق کر رہے ہیں اور جو افراد یا تنظیم اس معاملے میں ملوث پائی گئی ہم اس کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس بات کی بھی اطلاعات ہیں اور بہت پر زور انداز میں یہ کہا جا رہا ہے کہ بکیوں کے حلقے میں باتیں گردش کر رہیں ہیں کہ اوول میں ہونے والے تیسرے ون ڈے میں انگلینڈ کی ٹیم میچ فکسنگ میں ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ سب نے دیکھا کہ اس میچ میں پاکستان کے مد مقابل ٹیم کی بیٹنگ مکمل طور پر بیٹھ گئی لیکن کوئی اس کی تحقیق کیوں نہیں کر رہا جبکہ اس کی تحقیقات بھی ہونی چا ہیے، وہ صرف پاکستان کی ٹیم کو ہی نشانہ کیوں بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں کون لوگ ملوث تھے جلد وہ نام بھی میڈیاکے سامنے آ جائیں گے۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ کچھ ممالک کا میڈیا انصاف پسند نہیں اور پاکستان کی ٹیم کے خلاف بہت متعصبانہ رویہ رکھتا ہے۔کرکٹ کی سب سے معتبر تنظیم بھی بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ مبینہ طور پر بے انصافی پر مبنی اس سازش میں ملوث ہے، جس کے نتیجے میں کرکٹ کے کھیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

اعجاز بٹ کا کہنا تھا کہ آئی سی سی نے اس نئے سکینڈل کو منظر عام پر لانے سے پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اعتماد میں نہیں لیا اور بغیر کسی تحقیق کے الزام لگا دیا کہ اوول میچ میں کچھ غلط ہوا ہے، جب انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے سرزنش ہوئی تو نیا بیان آگیا کہ انگلینڈ کے کھلاڑی نہیں بلکہ پاکستانی اس میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایک ٹیم میچ جیت رہی ہے اوراُس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ میچ فکسنگ میں ملوث ہے ’ کہ اگر تحقیق کرنی ہے تو دونوں ٹیموں کی ہو صرف پاکستان ہی کی کیوں؟‘

انہوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے کہا ہے کہ وہ تحقیق کر رہے ہیں اور آئی سی سی متوازی تحقیقات نہیں کروا سکتی۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ وہ اس تمام سازش کو بے نقاب کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اس کی تہہ تک پہنچیں گے۔

ادھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئرمین لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء نے سپاٹ فکسنگ کے نئےالزامات سامنے آنے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر کڑی تنقید کی ہے ۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق چئرمین کا کہنا تھا کہ جب سے انگلینڈ اور پاکستان کی سیریز شروع ہوئی اور سپاٹ فکسنگ کے الزامات سامنے آئے، انہیں آئی سی سی کے کردار میں انصاف نظر نہیں آ رہا اور نہ ہی ان کی کارکردگی ایسی ہے کہ یہ کہا جا سکے کہ آئی سی سی ایک غیر جانبدار ادارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آئی سی سی نے’ دی سن اخبار‘اور ’نیوز آف دی ورلڈ ‘کی خبروں پر ہی یقین کرنا ہے تو اس کو چاہیے کہ اپنا انسداد بد عنوانی کا سیکشن بند کر دے اور صرف میڈیا کی باتوں پر ہی یقین کرے۔

سابق چئرمین توقیر ضیاء نے کہا کہ میچ فکسنگ اور سٹے بازی کی تمام کڑیاں بھارت، یو اے ای اور جنوبی افریقہ سے ملتی ہیں پاکستان میں تو ان کے کوئی رابطے نہیں ہیں اگر آئی سی سی کو کرکٹ کو بد عنوانی سے بچانا ہے تو ان رابطوں کو توڑے ان بکیوں پر کریک ڈاؤن کرے نہ کہ ایک ملک پر الزام لگا کر اس کی کرکٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی جائے۔

اسی بارے میں