’بیٹھتے ہی بیڈ ٹوٹ گیا تھا‘

اکھل کمار
Image caption اکھل کمار نے 2006 کے کامن ویلتھ گمیز میں سونے کا تمغہ جیتا تھا

کامن ویلتھ گمیز میں سونے کا تمغہ جیت چکے بھارتی مکے باز اکھل کمار کا کہنا ہے کہ بھارت میں بولنے کی آزادی نہیں ہے اور بولنے پر زبان کاٹ دی جاتی ہے۔

بی بی سی ہندی سے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گیمز ویلج میں انکا بیڈ بیٹھتے ہی ٹوٹ گیا تھا لیکن بھارت میں ان خامیوں کے بارے میں بولنے کی آزادی نہیں ہے۔

اکھل کمار نے 2006 کے کامن ویلتھ کھیلوں میں مکے بازی کے مقابلے میں سونے کا تمغہ جیتا تھا۔

اکھل کمار سمیت بھارتی مکے باز سنیچر کو کھیل گا‎ؤں پہنچے ہیں۔

اکھل کمار کا کہنا ہے کہ کہ لمبے سفر کے بعد جب وہ کھیل گاؤں پہنچے تو انہیں مایوسی ہوئی۔

انکا کہنا تھا ’میں اس واقعہ کے بارے میں بہت بات کرچکا ہوں۔ لیکن بھارت میں آزادانہ طور پر بات کرنے کی آزادی نہیں ہے اور بولنے پر زبان کاٹ دی جاتی ہے۔‘

انکا مزید کہنا تھا کہ ’سب کو معلوم ہے کہ کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں میں کیا گڑ بڑ چل رہی ہے۔ لیکن اس بارے میں بات کرنے کے لیے کوئی ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ میں تو بس یہی چاہتا ہوں کہ کھیل اچھی طرح سے ہوجائیں۔ افسوس یہ ہے کہ پریشانیوں کے بارے میں کوئی بولنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہم سے یہی کہا جاتا ہے کہ ایسا کرنے سے ملک کی بے عزتی ہو رہی ہے۔‘

بی بی سی نے ایک دیگر مکے باز دنیش کمار سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے کچھ بھی کہنے سےانکار کردیا اور کہا کہ اب تو ’سب ٹھیک ہورہا ہے۔‘

اسی بارے میں