گیمز ڈائری

گالیاں بھی ایک سی ہیں!

پاکستانی ایتھلیٹس
Image caption پاکستان کے ایتھلیٹس کے استقبال میں خوب تالیاں بجیں

دلی میں دولت مشترکہ کھیلوں کی شاندار افتتاحی تقریب کے دوران جب پاکستانی دستہ جواہر لال نہروں سٹیڈیم میں داخل ہوا تو اس کا زوردار انداز میں استقبال کیا گیا۔ بس صرف ہندوستان کے لیے اس سے زیادہ تالیاں بجیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ تلخی کے پس منظر میں مجھے یہ بات تھوڑی عجیب سے لگی۔ سٹیڈیم میں میرے پیچھے بڑی بڑی خطرناک رائفلیں لیے دو سکیورٹی اہلکار آپس میں بات کر رہے تھے۔ پاکستان کے لیے جب سٹیڈیم گونج اٹھا تو بےساختہ بولے: سب سے زیادہ پیار بھی پڑوسی سے ہوتا ہے اور سب سے زیادہ دشمنی بھی۔۔۔اتنی گہری بات سن کر میں نےمڑ کر دیکھا تو بولے: اجی، ان کی تو گالیاں بھی ویسی ہی ہیں حیسی ہماری ہیں!

باہمی بھائی چارا ناپنے کا یہ بھی ایک پیمانہ ہے۔

اب اولمپکس کی تیاری

Image caption افتتاحی تقریب کی ہر طرف تعریف ہورہی ہے

افتتاحی تقریب شاندار تھی یہ سب مان رہے ہیں، اور نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کے اخباروں نے اس کی تعریف لکھی ہے۔ مغربی ممالک سے آنے والوں کو ویسے بھی ہندوستانیوں سے زیادہ ان کی قدیم تہذیب میں دلچسپی ہوتی ہے، جتنے غیر ملکی پریس باکس میں بیٹھے تھے، میدان سے ان کی نظر نہیں ہٹ رہی تھی۔

تو کیا حیرت ہے کہ اولمپکس کی میزبانی کا ذکر پھر ہونے لگا ہے! اسے‘موڈ سوئنگ’ ہی کہیں گے کل تک بہت سے ایسے لوگ جو دولت مشترکہ گیمز کو وقت اور پیسے کی بربادی بتا رہے تھے، اب اولمپکس کی میزبانی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے! شاید کھیل گاؤں کے ٹائلٹس کی تصاویر دوبارہ شائع کرنے کی ضرورت ہے!

سفارت کاروں کا سفر

Image caption اقتتاحی تقریب سے قبل سخت سیکورٹی تھی

افتتاحی تقریب کے لیے سکیورٹی اتنی سخت تھی کہ غیر ملکی سفارتکاروں کو بھی بسوں سے سٹیڈیم پہنچایا گیا، انہیں اپنی گاڑیاں لانے کی اجازت نہیں تھی۔

بسوں نے انہیں سٹیڈیم کے قریب اتار دیا اور اس کے بعد وہ ادھر ادھر بھٹکتے پھرے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق انہیں سٹیڈیم میں داخل ہونے میں ایک گھنٹہ لگا۔ عام لوگوں کو بھی تین چار کلومیٹر پیدل چلنا پڑا۔

تقریب میں ’دی گریٹ انڈین جرنی‘ کے نام سےبھی ایک شو تھا لیکن بہت سے لوگوں کے لیے یہ سفر سٹیڈیم کے باہر ہی شروع ہوگیا تھا۔

اسی بارے میں