نیٹو سپلائی پانچوں دن بھی معطل

Image caption طورخم میں سو کے قریب کنٹینرز اور آئل ٹینکرز کھڑے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں نیٹو فورسز کی جانب سے کارروائی کے بعد پاکستان سے اتحادی افواج کو تیل اور سامان کی سپلائی بدستور پانچویں روز بھی معطل ہے جس سے سامان اور تیل سے بھری ہزاروں گاڑیاں ملک کے مختلف علاقوں میں کھڑی ہیں۔

دوسری طرف کنٹینروں اور آئل ٹینکروں پر شدت پسندوں کی طرف سے حملوں کی وجہ سے مالکان اور ڈرائیور سخت عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں۔

چند دن قبل افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا تھا جس میں تین اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد پاکستان سے نیٹو فورسز کو سامان اور تیل کی ترسیل غیر اعلانیہ طور پر معطل کر دی گئی تھی۔

خیبر ایجنسی کے ایک پولیٹکل اہلکار نے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو خیبر ایجنسی کے راستے سامان اور تیل سپلائی پیر کو پانچویں روز بھی بند رہی۔

انہوں نے کہا کہ اس پابندی کی وجہ سے پاک افغان سرحدی علاقے طورخم میں سو کے قریب کنٹینرز اور آئل ٹینکرز سامان اور تیل سے بھرے کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق ان گاڑیوں کو افغانستان جانے کےلیے پاکستانی کسٹم حکام کی طرف سے کلیئرنس نہیں مل رہی۔

ادھر آل پاکستان آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن کے ترجمان اسرار اللہ شنواری کا کہنا ہے کہ گاڑیوں پر حملوں کی وجہ سے مالکان اور ڈرائیور حضرات سخت عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ دنوں سے خیبر سے لیکر چمن بلوچستان سرحد تک ان کی تقریباً تین ہزار کے قریب آئل ٹینکرز مختلف علاقوں میں تیل سے بھرے کھڑے ہیں جس کے باعث انھیں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔

Image caption شکارپور اور اسلام آباد کے قریب حملوں میں درجنوں ٹینکر جلائے گئے ہیں

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے انھیں وہ سکیورٹی حاصل نہیں جس سے مالکان اور ڈرائیور حضرات مطمئن ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ چند دنوں سے جس طرح ان کی گاڑیاں ملک کے مختلف علاقوں میں نشانہ بنائی گئی ہیں اس سے وہ سخت عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند دن کے دوران پہلے صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور اور پھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نزدیک جی ٹی روڈ پر نیٹو کے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ان واقعات میں جہاں درجنوں ٹینکرز نذرِ آتش کیے گئے وہیں تین افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے قبل خیبر ایجنسی کی حددو میں نیٹو کو رسد پہنچانے والے گاڑیوں پر کئی مرتبہ حملے ہو چکے ہیں جن میں سینکڑوں گاڑیاں بھی تباہ کی گئی ہے۔ ان حملوں میں کئی افراد بھی مارے جاچکے ہیں۔ ان واقعات کی ذمہ داری کالعدم تنظمیں وقتاً فوقتاً قبول کرتے رہے ہیں۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ حملے قبائلی علاقوں میں جاری امریکی ڈرون حملوں کا ردعمل ہے۔

اسی بارے میں