پابندی کے خلاف اپیل، سماعت قطر میں

Image caption کھلاڑیوں پر رقم کے عوض مخصوص مواقع پر نو بال کروانے کا الزام عائد کیاگیا تھا

سپاٹ فکسنگ تنازعے کے بعد معطل کیے جانے والے تینوں پاکستانی کھلاڑیوں کی اس عارضی پابندی کے خلاف اپیل کی سماعت اب تیس اور اکتیس اکتوبر کو قطر میں ہوگی۔

آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کمیشن کے سربراہ مائیکل بیلوف خود سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کی اپیلوں کی سماعت کریں گے۔

آئی سی سی نے دو ستمبر کو پابندی عائد کرنے کے بعد تینوں کھلاڑیوں سے جواب طلب کیا تھا اور چودہ ستمبر کو سلمان بٹ سیمت تینوں کھلاڑیوں نے لندن میں اپنی وکیل کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے نوٹس کا جواب دیا تھا۔

اس کے بعد پہلے سلمان بٹ اور پھر محمد آصف اور محمد عامر نے اپنی معطلی کو ختم کرنے کی اپیل کی۔

آئی سی سی کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں کی جانب سے کی جانے والی یہ اپیلیں صرف اس عارضی پابندی کے خاتمے کے لیے ہیں اور ان کی سماعت کے دوران دو ستمبر کو ان پر لگائے جانے والے الزامات پر بات نہیں ہوگی۔

بیان کے مطابق اس سلسلے میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ کا کہنا ہے کہ ’تینوں کھلاڑیوں کی جانب سے علیحدہ علیحدہ اپیلیں موصول ہونے کے بعد آئی سی سی نے اپنے انسدادِ رشوت ستانی کوڈ کے تحت جلد از جلد اس معاملے کی غیرجانبدارانہ سماعت کا اہتمام کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ اس معاملے کے فریقین سے بات چیت کے بعد اپیلوں کی سماعت قطر کے دارالحکومت دوہا میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پاکستانی کھلاڑیوں نے لندن میں اپیل کی سماعت کی صورت میں برطانوی میڈیا کی جانب سے دوبارہ نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

ہارون لوگارٹ نے کہا کہ ’ہم اپنے کوڈ کے تحت منصفانہ کارروائی کے خواہاں ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی ہم اس کھیل کی عظمت کو بھی برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں‘۔

خیال رہے کہ برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستانی کھلاڑیوں پر رقم کے عوض لارڈز ٹیسٹ میں مخصوص مواقع پر نو بال کروانے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان الزامات کے بعد دو ستمبرکو آئی سی سی نے اپنے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت پاکستانی کھلاڑیوں کے تمام قسم کی کرکٹ کھیلنے پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اسی بارے میں