آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 اکتوبر 2010 ,‭ 18:28 GMT 23:28 PST

’میرے کیریئر میں اتارچڑھاؤ آتے ہی ہیں‘

مصباح الحق

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔۔۔یہ بات پاکستانی کرکٹ پر صادق آتی ہے۔

مصباح الحق دو روز پہلے تک پاکستانی کرکٹ ٹیم سے باہر تھے لیکن اب وہ اسی ٹیم کے کپتان ہیں۔

شاید اسی لیے سب اس پیش رفت پر حیرت کا اظہار بھی کر رہے ہیں لیکن خود مصباح الحق کو اس پر حیرانی نہیں ہے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

مصباح الحق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں’میرے لیے ٹیم سے ڈراپ ہونا اور پھر واپس آنا نئی بات نہیں ہے۔ میں کبھی اسے ذہن پر سوار نہیں کرتا۔‘

مصباح الحق گزشتہ سال ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے بعد ٹیم سے ڈراپ ہوئے تو نیوزی لینڈ کے دورے کے لیے کپتان بنائے گئے محمد یوسف کو ان کی یاد آئی اور مصباح کو نیوزی لینڈ بھیج دیا گیاجہاں دو ٹیسٹ میچوں کی چار اننگز میں ایک بھی نصف سنچری نہ بناسکے۔

میرے لیے ٹیم سے ڈراپ ہونا اور پھر واپس آنا نئی بات نہیں ہے۔ میں کبھی اسے ذہن پر سوار نہیں کرتا

مصباح الحق

آسٹریلوی دورے میں بھی انہیں دو ٹیسٹ میچوں میں موقع دیا گیا جن میں صرف ایک نصف سنچری ان کے نام کے آگے درج تھی۔

مصباح الحق کہتے ہیں’میرے کریئر میں اتارچڑھاؤ آتے ہی ہیں لیکن اس صورتحال میں زیادہ جوش جذبے سے میں اچھی کارکردگی کے ذریعے ٹیم میں واپسی کی کوشش کرتا ہوں۔‘

سڈنی ٹیسٹ سے ڈراپ ہونے کے بعد مصباح الحق کی دوبارہ واپسی اس سال ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی ٹیم میں ہوئی تھی لیکن چھ میچوں میں ایک بھی نصف سنچری سکور نہ کرنا خود ان کےلیے بھی مایوس کن صورتحال تھی اور یہ بھی سننے میں آیا تھا کہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

مصباح الحق بحیثیت کپتان واپسی کو چیلنج سمجھتے ہیں’میرے لیے یہ لمحہ ظاہر ہے خوشی کا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا اور اپنی خامیوں پر نظر رکھتے ہوئے انہیں دور کرنے کی کوشش کرنی ہوگی انگلینڈ کے دورے میں دو ٹیسٹ میچز جیتنے کا مطلب ہے کہ ٹیم میں ٹیلنٹ ہے صرف کارکردگی میں مستقل مزاجی لانے کی ضرورت ہے‛۔

مصباح الحق کے خیال میں متحدہ عرب امارات کی کنڈیشنز پاکستانی ٹیم کے لیے موافق ہیں

مصباح الحق کے خیال میں متحدہ عرب امارات کی کنڈیشنز پاکستانی ٹیم کے لیے موافق ہیں’اس میں کوئی شک نہیں کہ جنوبی افریقہ ایک بڑی اور پروفیشنل ٹیم ہے لیکن پاکستانی ٹیم انگلینڈ میں سخت کرکٹ کھیل کر آئی ہے اور ہمارے بیٹسمینوں کےلیے انگلینڈ کی کنڈیشنز کے مقابلے میں دبئی اور ابوظہبی میں بیٹنگ نسبتاً آسان ہوگی۔ ہماری ٹیم میں سپنرز بھی اچھے ہیں اور مجھے امید ہے کہ جنوبی افریقہ کےخلاف کارکردگی اچھی رہے گی۔‘

پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی اس سال محمد یوسف، شاہد آفریدی اور سلمان بٹ سے ہوتے ہوئے اب مصباح الحق کے پاس آئی ہے۔

قیادت کا اس سے قبل صرف ایک تجربہ انہیں 2008 کے ایشیا کپ میں رہا ہے جب ان فٹ شعیب ملک کی جگہ وہ بھارت کے خلاف میچ میں کپتان بنے تھے۔ وہ میچ پاکستان ان کے ستر کی اننگز اور یونس خان کی سنچری کی بدولت آٹھ وکٹوں سے جیتا تھا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔