آخری وقت اشاعت:  پير 11 اکتوبر 2010 ,‭ 23:31 GMT 04:31 PST

’افتتاحی تقریب واقعے کی وجہ سے ہارا‘

ویٹ لفٹرشجاع الدین ملک کو اس بات کا دکھ ہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں وہ دو مرتبہ پاکستانی پرچم بلند نہ کرسکے۔ پہلی مرتبہ جب پہلے سے طے شدہ پروگرام کے باوجود افتتاحی تقریب میں ان کے بجائے چیف ڈی مشن ڈاکٹر محمد علی شاہ نے پرچم کے ساتھ پاکستانی دستے کی قیادت کی اور دوسری مرتبہ اس وقت جب وہ گولڈ میڈل کے لیے ہونے والے مقابلے میں وزن اٹھانے میں ناکام رہے۔

شجاع الدین ملک اس ناکامی کو اپنی فٹنس سے زیادہ افتتاحی تقریب میں پیش آنے والے واقعے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

دہلی فون کرکے شجاع الدین ملک سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی۔ ان کے منیجر راشد محمود سے پتہ چلتا کہ وہ ہسپتال ایم آر آئی کے لیے گئے ہیں کبھی جواب ملتا کہ وہ درد کم کرنے کی دوائیوں کے اثر سے سورہے ہیں۔

بالآخر شجاع الدین سے بات ہوئی لیکن دکھ بھرے لہجے میں مختصر گفتگو کے دوران ان کا ایک ہی جملہ سب کچھ بیان کرگیا۔ ’میرے نہ جیتنے کی وجہ یہی ہے کہ پرچم تنازعے نے مجھے بہت زیادہ ذہنی طور پر پریشان کیے رکھا تھا۔‘

میں نے شجاع الدین کو کریدا لیکن وہ مزید کچھ کہنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ’میں اس سے زیادہ کچھ اور کہنا نہیں چاہتا میں وطن واپسی کا انتظار کررہا ہوں۔ پاکستان جاکر ہی میں سب کو اس کی تفصیل بتاؤں گا۔‘

جس نے گولڈ میڈل جیتا ہے میں اس سے دس کلوگرام زیادہ ٹریننگ کررہا تھا لہٰذا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مجھے کتنا دکھ ہوا ہوگا۔ میری پہلی کوشش ایک سو پنتالیس کلوگرام کی تھی لیکن چونکہ سارے ویٹ لفٹرز نے ایک سو چالیس کے جی سے شروع کیا تو میں نے بھی اسی سے آغاز کیا لیکن میں نے جیسے ہی اپنا پورا زور لگاکر وزن اٹھایا ہے میرے کندھے کے مسل کے ٹشوز پھٹ گئے۔

شجاع

میں نے شجاع الدین سے یہ سوال کیا کہ اس مایوسی میں کہیں وہ اپنے مستقبل کے بارے میں تو کوئی فیصلہ نہیں کرنے والے ہیں؟ جواب ملا ’میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ کہنے کو جو بھی ہے وہ پاکستان واپسی پر ہی کہوں گا۔‘

واضح رہے کہ چار سال قبل میلبرن میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے پر حکومت اور اسپورٹس کے کرتا دھرتاؤں نے شجاع الدین کو بہت کچھ دینے کے خوبصورت وعدے کیے تھے لیکن کچھ بھی نہ ملا تو دلبرداشتہ ہوکر انہوں نے کچھ عرصے کے لیے ویٹ لفٹنگ چھوڑ دی تھی تاہم پاکستان کو ایک بار پھر طلائی تمغہ دلوانے کی خواہش لئے وہ واپس مقابلوں میں آئے تھے۔

شجاع الدین ملک کو اپنی سخت ٹریننگ کے اس طرح ضائع جانے کا بھی بہت افسوس ہے ’جس نے گولڈ میڈل جیتا ہے میں اس سے دس کلوگرام زیادہ ٹریننگ کررہا تھا لہٰذا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مجھے کتنا دکھ ہوا ہوگا۔ میری پہلی کوشش ایک سو پنتالیس کلوگرام کی تھی لیکن چونکہ سارے ویٹ لفٹرز نے ایک سو چالیس کے جی سے شروع کیا تو میں نے بھی اسی سے آغاز کیا لیکن میں نے جیسے ہی اپنا پورا زور لگاکر وزن اٹھایا ہے میرے کندھے کے مسل کے ٹشوز پھٹ گئے۔‘

شجاع الدین کی گفتگو اور خاص کران کا یہ کہنا کہ وہ پاکستان جاکر ہی جو کچھ کہنا ہے کہیں گے یہ ظاہر کررہا ہے کہ پرچم تنازعے کو وہ اپنے ذہن سے نکال نہیں سکے ہیں جبکہ دوسری جانب چیف ڈی مشن ڈاکٹر محمد علی شاہ کا یہ کہنا ہے کہ یہ واقعہ غلط فہمی کی وجہ سے پیش آگیا لیکن اس کے بعد سے ان کے شجاع الدین ملک اور دوسرے ویٹ لفٹرز سے خوشگوار تعلقات قائم ہوچکے ہیں۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔