کامن ویلتھ کھیلوں کے اصل ستارے

ثائنہ نہوال
Image caption ثائینہ نہوال کے طلائی تمغے کی بدولت بھارت تمغوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا۔

انیسویں دولت مشترکہ کھیل اپنے اختتام کو پہنچ گئے ہیں اور شاید جلدی ہی توجہ ان تنازعات کی طرف لوٹ جائے گی جو گیمز سے پہلے سرخیوں میں چھائے ہوئے تھے۔

لیکن میدان پر ہونے والے ایکشن کو کس طرح یاد رکھا جائے گا؟ وہ کون سے لمحات تھے جو ذہن پر نقش رہیں گے یا جن سے ایک نئی نسل تحریک حاصل کرے گی؟

بہت سے عالمی چیمپئن مختلف خدشات کی وجہ سے دلی نہیں آئے، جو آئے انہیں ٹکر دینے والوں میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ کوئی نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوتا۔ لیکن جہاں اکہتر ممالک کے کھلاڑی جی جان لگا رہے ہوں، وہاں شاندار کارناموں کی کمی کیسے رہ سکتی ہے۔

آسٹریلیا تمغوں کی دوڑ میں سب سے آگے رہا( چوہتر گولڈ) لیکن اڑتیس سونے کے تمغے جیت کر ہندوستان نے دوسرا مقام حاصل کیا۔ سینتیس سونے کے تمغوں کے ساتھ انگلینڈ تیسرے نمبر پر رہا حالانکہ مجموعی طور پر اس نے میزمان ملک سے زیادہ میڈل جیتے۔

ہاکی کے میدان پر کچھ شاندار میچ ہوئے۔ پہلے پاکستان(4-7) اور پھر سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف ہندوستان کا جارحانہ کھیل عرصے تک یاد رہے گا لیکن ہندوستانی ٹیم فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف صفر کے مقابلے میں آٹھ گول سے شکست کو بھی جلدی نہیں بھلا پائے گی۔

اگرچہ زیادہ تر لوگ خواتین کی ڈسکس تھرو میں ہندوستان کی‘کلین سوئیپ' کو میزبان ملک کے لیے ٹریک اینڈ فیلڈ کی سب سے بڑی کامیابی مان رہے ہیں لیکن میرے لیے سولہ سو میٹر کی ریلے میں ہندوستانی خواتین کا گولڈ میڈل زیادہ حیرت انگیز کارنامہ تھا۔

بہرحال، ٹریک اینڈ فیلڈ میں ہندوستان نے سن انیس سو اٹھاون کے بعد پہلی مرتبہ گولڈ میڈل جیتے اور اب جب بھی ایتھلیٹس ٹریک پر اتریں گے تو نصف صدی پہلے’فلائنگ سکھ‘ ’ملکھا سنگھ‘ کے کارناموں کا بوجھ ان کے کندھوں پر نہیں ہوگا۔

اور کس نے سوچا تھا کہ ہندوستان جمناسٹکس میں چاندی کا تمغہ حاصل کرسکتا ہے؟ یا عالمی شہرت یافتہ باکسر وجیندر سنگھ گولڈ میڈل نہیں جیت پائیں گے، یا نشانے بازی میں ابھیونو بندرا سے بھی بڑے نام سامنے آئیں گے یا پاکستانی ویٹ لفٹر شجاع الدین ملک خالی ہاتھ واپس جائیں گے؟

سائنا نہوال جیسے سٹارز نے تو وہ سب کچھ کیا جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی لیکن جیسا ہمیشہ ہوتا ہے، بہت سے غیر معروف کھلاڑیوں نے ان کھیلوں سے اپنا بین الاقوامی سفر شروع کیا۔

پاکستان کے محمد انعام اور اظہر حسین نے فری سٹائل کشتی میں زیادہ شہرت یافتہ اور تجربہ کار پہلوانوں کو ہراکر گولڈ میڈل جیتے اور اظہر نےگریکو رومن میں چاندی کا میڈل بھی حاصل کیا حالانکہ وہ فری سٹائل کے ماہر ہیں!

اور باکسنگ میں ہارون خان کے کانسی کے میڈل کا کیا؟ ان سے تو خود انگلینڈ کو کوئی امید نہیں تھی جہاں وہ پلے بڑھے ہیں اور جہاں ان کے بڑے بھائی عامر خان اتنے بڑے باکسنگ سٹار ہیں۔

اور کیا نشانے بازی میں انیسہ سید کے کارناموں کو کوئی بھلا پائے گا؟ پہلے کس نے ان کا نام سنا تھا اور دو گولڈ میڈلز کے بعد کون ان کا نام بھلاسکےگا؟

دولت مشترکہ کھیلوں میں بر صغیر کے لیے یہ سب سے بڑے ہیرو تھے جن کے کارناموں سے ایک نئی نسل تحریک حاصل کرے گی۔

اسی بارے میں