’امپائرز ریویو سسٹم ہر سیریز میں ہونا چاہیے‘

فائل فوٹو، علیم ڈار

آئی سی سی کے بہترین امپائر کا ایوارڈ مسلسل دوسرے سال حاصل کرنے والے علیم ڈار کا خیال ہے کہ امپائر ڈیسیشن ریویو سسٹم ( یو ڈی آر ایس ) کو ہر سیریز میں استعمال کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ طریقہ کار بہت مؤثر ہے اوراس کے ذریعے غلطیوں پر قابو پانے میں بہت مدد ملتی ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی نے آئندہ ورلڈ کپ میں اس سسٹم کو استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے تاہم اس کا انحصار بال ٹریکنگ ٹیکنالوجی کے مؤثر ہونے پر ہے۔ ہاٹ سپاٹ ٹیکنالوجی کا استعمال صرف سیمی فائنلز اور فائنل میں کیا جائے گا۔

علیم ڈار اس وقت بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کی ون ڈے سیریز میں امپائرنگ کے لیے ڈھاکہ میں ہیں۔انھوں نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کہا: ’امپائرڈیسیشن ریویو سسٹم امپائرز کے لئے بہت مدد گار ہے کیونکہ بعض اوقات بیٹ اینڈ پیڈ اور گیند کا بلے کے کنارے سے لگنا امپائرز کو پتہ نہیں چلتا لہذا اس سسٹم سے صحیح فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے‘

علیم ڈار کا کہنا تھا کہ ’اسے ہر سیریز میں استعمال میں لانا چاہیے ابھی کسی سیریز میں اسے استعمال کیا جاتا ہے کسی میں نہیں۔ اس کے علاوہ اس طریقہ کار کو اس کے تمام لوازمات کے ساتھ استعمال کیا جائے تب ہی اس کی افادیت ہے۔‘

اس سال علیم ڈار کو بہترین امپائر منتخب کرنے والی جیوری میں آئی سی سی کے تمام مکمل رکن ملکوں کے کپتان اور آئی سی سی کے ایلیٹ پینل کے میچ ریفریز شامل تھے اور اس بار ان کے مقابلے پر بہترین امپائر کا ایوارڈ پانچ بار جیتنے والے سائمن ٹافل، سٹیو ڈیوس اور ٹونی ہل تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ گزشتہ سال کی طرح اس بار بھی ایوارڈ کے اعلان سے پہلے کیا وہ بے چین تھے تو انھوں نے جواب دیا ’اس سال بھی میری کارکردگی اچھی رہی اسی بنیاد پر متعدد میچ ریفریز نے مجھے اشارہ دیا تھا کہ اس بار بھی یہ ایوارڈ مجھے مل سکتا ہے ۔ایوارڈ ملنے سے پہلے میں نارمل تھا ۔ ایلیٹ پینل میں بہترین امپائرز شامل ہیں اور کسی بھی امپائر کے لیے یہ بات اعزاز سے کم نہیں ہوتی کہ ان بہترین امپائرز میں بھی آپ شارٹ لسٹ ہوکر پہلے تین امپائرز میں آجائیں۔ رہی بات ایوارڈ ملنے کی تو کسے خوشی نہیں ہوتی‘۔

علیم ڈار بہترین امپائر کا ایوارڈ ملنے کے باوجود اب بھی سائمن ٹافل کو چند بہترین امپائرز میں سے ایک سمجھتے ہیں: ’میرے خیال میں سائمن بہترین امپائر ہیں جب مجھے ایوارڈ ملا تو ہم ساتھ ہی تھے۔ انہوں نے مجھے مبارکباد دی تاہم چونکہ میری بنگلہ دیش کی فلائٹ تھی لہذا ہمیں زیادہ بات کرنے کا موقع نہیں ملا ۔ ہر امپائر کے لئے ایک جیسا وقت نہیں ہوتا سائمن نے پانچ سال لگاتار ایوارڈ جیتا۔ دوسال سے میں جیت رہا ہوں اس کے لیے امپائرنگ میں کنڈیشن سے مطابقت بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے جیسا کہ میں جب پہلی مرتبہ آسٹریلیا گیا تو وہاں مجھے مشکل ہوئی اسی طرح سائمن کو برصغیر آکر پرابلم ہوتی ہے‘۔

علیم ڈار اب تک ساٹھ ٹیسٹ ایک سو پنتیس ون ڈے انٹرنیشنل اور اٹھارہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں امپائرنگ کرچکے ہیں۔ لیکن اپنے دوسرے ساتھی امپائرز کی طرح وہ اپنا طویل کریئر نہیں دیکھ رہے ہیں۔ ’میں نہیں سمجھتا کہ میں ڈیوڈ شیپرڈ اور روڈی کرٹزن کی طرح لمبے عرصے تک امپائرنگ کرسکوں گا حالانکہ میری عمر ابھی بیالیس سال ہے اور میں پینسٹھ سال کی عمر تک امپائرنگ کرسکتاہوں۔ لیکن میری فیملی ہے بچے چھوٹے ہیں ایسے میں چھ سات ماہ گھر سے دور رہنا میرے لیے بہت مشکل ہوتا ہے تاہم میری کوشش ہوگی کہ جتنا ممکن ہوسکے میں امپائرنگ کرسکوں‘۔

علیم ڈار روڈی کرٹزن اور ڈیوڈشیپرڈ کے الوداعی ٹیسٹ میچز یاد کرکے خود بھی جذباتی ہوجاتے ہیں۔’میں شیپرڈ کےساتھ انگلینڈ کے باہر ان کے آخری ٹیسٹ میں ساتھ تھا۔ جب میچ ختم ہوا تو میں نے انہیں گلے لگایا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اسی طرح روڈی کو بھی میں نے ان کے آخری ٹیسٹ میچ میں بہت جذباتی دیکھا کیونکہ یہ قدرتی امر ہے کہ جب آپ کی طویل وابستگی کسی مقام پر آکر ختم ہوتی ہے تو احساسات بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ جس کیفیت سے کرٹزن اور شیپرڈ گزرے مجھے پتہ ہے کہ میری بھی یہی کیفیت ہوگی جب میں امپائرنگ چھوڑوں گا‘۔

اسی بارے میں