’امید ہے پابندی ہٹا لی جائے گی‘

Image caption مبصرین محمد عامر کو وسیم اکرم کی ٹکر کا بولر قرار دے رہے تھے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور نوجوان اور باصلاحیت تیز رفتار بالر محمد عامر نے دبئی میں سپاٹ فکسنگ پر آئی سی سی کی سماعت کے لیے روانگی سے قبل کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ اُن پر عائد پابندی کو ہٹا لیا جائے گا۔

سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف پر انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ایک برطانوی اخبار کی طرف سے سپاٹ فکسنگ کے الزامات عائد کیئے گئے تھے جس کے بعد ان تینوں کھلاڑیوں پر کرکٹ کھیلنے پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

سلمان بٹ اور محمد عامر جمعہ کو کراچی سے اپنے وکلاء کے ساتھ دبئی روانہ ہوئے۔

سلمان بٹ نے روانگی سے قبل اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ظاہر ہے کہ ہم اپنے خلاف لگائی جانے والی پابندی کے اٹھائے جانے کے بارے پر امید ہیں اور ہمارے وکلاء نے بہت مضبوط کیس بنایا ہے۔‘

سلمان بٹ نے کہا کہ انھوں نے بہت تجربہ کار وکلاء کی خدمات حاصل کیں ہیں اور انھوں نے یقین دلایا کہ کیس میں کوئی جان نہیں ہے اور ان پر پابندی جلد ختم کیئے جانے کا قوی امکان ہے۔

تینوں کھلاڑیوں نے اپنے خلاف لگائی گئی پابندی کے خلاف اپیل دائر کی تھی لیکن محمد آصف نے یہ کہہ کر واپس لے لیا کہ ان کو اپنا کیس تیار کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

نو عمر کھلاڑی محمد عامر نے بھی اس یقین کا اظہار کیا کہ ان پر سے پابندی اٹھا لی جائے گی۔ محمد عامر نے کہا ہے کہ ’میں شروع سے کہتا آ رہا ہوں کہ ہم بے گناہ ہیں، ہمارے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اور ہمارے خلاف پابندی اٹھا لی جائے گی۔‘

بائیں ہاتھ سے بالنگ کرنے والے بولر نے کہا کہ فوری طور پر قومی کرکٹ ٹیم میں واپس آنے کے لیے تیار اور فٹ ہیں۔

عامر نے کہا کہ ’پاکستان ٹیم کے لیے کرکٹ کھیلنا میرے لیے سب کچھ اور میں نے پاکستان کی کرکٹ انتظامیہ کو بتا دیا ہے کہ جیسے ہی میرے خلاف پابندی اٹھائی جاتی ہے میں ٹیم میں شامل ہونے کو تیار ہوں۔