’پاکستانی فٹبال میں بھی سپر سٹار ہیں‘

پاکستانی فٹبال ٹیم کے برطانوی کنسلٹنٹ گراہم رابرٹس کو ٹیم میں سپر سٹارز دکھائی دے رہے ہیں اور وہ ان کے مستقبل سے پرامید ہیں۔

اکیاون سالہ گراہم رابرٹس نے دو ماہ کے مختصر مدت کے ابتدائی معاہدے کے تحت پاکستانی کھلاڑیوں اور کوچز کی ٹریننگ کی ذمہ داری سنبھالی ہے اور وہ پاکستانی انڈر23 ٹیم کے ساتھ ایشین گیمز میں گئے ہوئے ہیں۔

چین روانگی سے قبل گراہم رابرٹس، جو چیلسی اور ٹاٹنہم کی طرف سے کھیلنے کے علاوہ چھ انٹرنیشنل میچز میں انگلینڈ کی نمائندگی بھی کرچکے ہیں، نے پاکستان ٹیم میں کم ازکم دو یا تین سپر سٹارز کی نشاندہی کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت ان کھلاڑیوں کے نام نہیں بتاسکتے۔

کراچی میں ہمارے نامہ نگار عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ایشین گیمز ہو جانے دیجیے اس کے بعد ان کے نام نتاؤں گا۔‘

گراہم رابرٹس نے کہا کہ ٹیم میں ایک سپر سٹار تو یقینی طور پر موجود ہے یہ تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان کھلاڑیوں کو ان کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے آئندہ سال انگلینڈ لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

گراہم رابرٹس نے کہا کہ ان کے پاس انگلینڈ میں کوچنگ کی دو پیشکش موجود تھیں لیکن انہیں پاکستان آکر کوچنگ میں کشش دکھائی دی کیونکہ یہ ایک مختلف چیلنج ہے اور ان کا خیال ہے کہ ان کا تجربہ پاکستانی فٹ بال کے کام آسکتا ہے۔

رابرٹس نے کہا کہ پاکستان میں فٹبال کا معیار بہتر ہوا ہے تاہم میدانوں کی حالت اچھی کرنے کی ضرورت ہے۔

ایشین گیمز میں ٹیم کی متوقع کارکردگی کے بارے میں رابرٹس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ٹیم تھائی لینڈ اور مالدیپ کے خلاف اچھی کارکردگی دکھائے گی۔ جہاں تک اومان کا تعلق ہے وہ ایک مضبوط ٹیم ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ کی ٹیم میں جو خامیاں ہیں اس کا فائدہ پاکستانی ٹیم کو اٹھانا چاہیے۔

گراہم رابرٹس کے مطابق یہ پاکستان کی بہترین ٹیم ہے جو منتخب کی گئی ہے جس کی فٹنس کا معیار اچھا ہے اور کھلاڑیوں میں جوش وجذبہ موجود ہے۔ کھلاڑیوں کی ذہنی تربیت بھی کی گئی ہے اور اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ میدان میں اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کریں۔

واضح رہے کہ ایشین گیمز میں ہونے والے فٹ بال مقابلوں میں ہر ٹیم انڈر 23ہوگی تاہم اسے تین زائد العمر کھلاڑی کھلانے کی اجازت ہوگی۔

ایشین گیمز میں پاکستانی فٹ بال ٹیم کی شرکت پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر فیصل صالح حیات کی ذاتی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوسکی ہے کیونکہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ نے فٹبال ٹیم ایشین گیمز میں نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن فٹ بال فیڈریشن نے اسے چین بھیجنے کے تمام تر اخراجات خود برداشت کیے ہیں۔

اسی بارے میں