ذوالقرنین حیدر کون؟

پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ میں لاہور اور پی ٹی سی ایل کی نمائندگی کرنے والے چوبیس سالہ وکٹ کیپر بیٹسمین ذوالقرنین حیدر کا نام بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی بار اس وقت سنا گیا تھا جب وہ 2007ء میں جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ میں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے تھے لیکن پاکستانی ٹیم کی نو وکٹوں سے شکست میں ان کی کارکردگی بھی برائے نام رہی تھی۔

ذوالقرنین نے بے وقوفی کی

وہ صحیح معنوں میں اس سال انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ میں شہ سرخیوں میں آئے۔

اس دورے میں پاکستانی ٹیم کے وکٹ کیپر کامران اکمل تھے لیکن ان کی خراب کارکردگی کے سبب ٹیم منیجمنٹ نے ذوالقرنین حیدر کو ٹیسٹ کیپ دینے کا فیصلہ کیا۔

ذوالقرنین حیدر کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کسی ڈراؤنے خواب کی طرح رہا کیونکہ پہلی اننگز میں وہ پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ اس اننگز میں پاکستانی ٹیم صرف 72 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

دوسری اننگز میں بھی کہانی کچھ مختلف نہ تھی۔ ذوالقرنین حیدر کو امپائر سٹیو ڈیوس نے پہلی ہی گیند پر گریم سوآن کے ہاتھوں ایل بی ڈبلیو دے دیا لیکن ذوالقرنین نے اس فیصلے کو ریفرل سسٹم کے تحت چیلنج کیا اور فیصلہ ان کے حق میں ہوا جس کے بعد انہوں نے88 رنز کی اننگز کھیل ڈالی۔

اس اننگز کے دوران وہ بالنگ اینڈ پر کھڑے تھے جب سٹورٹ براڈ نے انہیں گیند ماری جس سے ان کی انگلی کی تکلیف جو انہیں پہلے ہی تھی مزید بڑھ گئی۔

ذوالقرنین حیدر کے لیے وہ لمحہ بہت مایوس کن تھا جب انہیں ان فٹ قرار دے کر وطن واپس بھیج دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کھیل سکتے تھے اور ان کی تکلیف اتنی شدید نہیں تھی لیکن ٹیم منیجمنٹ کا فیصلہ انہیں قبول کرنا پڑا۔

ذوالقرنین کو وطن واپس بھیج کر کامران اکمل کی دوبارہ ٹیم میں جگہ بنائی گئی لیکن وہ بعد کے میچوں میں بھی ناکام ثابت ہوئے۔

جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں کامران اکمل کو ٹیم میں شامل نہ کیے جانے کے نتیجے میں ذوالقرنین سلیکٹرز کا اولین انتخاب ٹھہرے لیکن چار ون ڈے میچوں کے بعد اچانک ٹیم چھوڑ کر چلے جانے کے سبب ان کے کریئر پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

ذوالقرنین حیدر پاکستان کے لیے ایک ٹیسٹ، چار ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیل چکے ہیں۔

سات سال پر محیط فرسٹ کلاس کریئر میں انہوں نے تین سنچریاں بھی سکور کی ہیں۔

اسی بارے میں