ذوالقرنین نے سیاسی پناہ کی درخواست کر دی

بی بی سی سپورٹس کو پتہ چلا ہے کہ پاکستانی وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دائر کر دی ہے۔

وکٹ کیپر ذوالقرنین نے دوبئی میں جنوبی افریقہ کے خلاف ون ڈے سیریز کے چوتھے میچ کے بعد اچانک ہوٹل سے غائب ہو کر برطانیہ پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست کر دی ہے۔

ذوالقرنین حیدر نے کہا ہے کہ چوتھے ون ڈے میچ کے بعد انہیں دھمکیاں ملی تھیں اور انہیں میچ فکس کرنے کا کہا گیا تھا اور انہوں نے ٹیم مینجمنٹ کو بتائے بغیر ہی ٹیم کو چھوڑ کر چلے آئے ہیں کیونکہ وہاں ان کی زندگی کو خطرہ تھا۔

لندن پہنچنے کے بعد ذوالقرنین نے پہلے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر ہونے کا اعلان کیا اور بعد میں کہا کہ اگر انہیں سکیورٹی مہیا کی جائے تو انہیں پاکستان کے لیے دوبارہ کھیلنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

دریں اثنا پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مینجر انتخاب عالم کا کہنا ہے کہ ذوالقرنین حیدر نے مبینہ طور پر میچ فکسنگ کے بارے میں پیشکش اور دھمکی کے بارے میں ٹیم منیجمنٹ کو نہ بتا کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔

ذوالقرنین حیدر لندن پہنچ گے

آپ کی رائے: پاکستان کرکٹ اور ذوالقرنین تنازعہ

واضح رہے کہ ذوالقرنین حیدر مبینہ طور پر میچ فکسنگ کے لیے دھمکی آمیز پیغام ملنے کے بعد جنوبی افریقہ کے خلاف پانچویں ون ڈے سے قبل اچانک ٹیم چھوڑ کر لندن چلے گئے تھے۔

ذوالقرنین حیدر نے لندن سے جیو نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کے ساتھ اس وقت جو صورتحال درپیش ہے اس کا دباؤ برداشت نہیں کرسکتے اس لیے اپنا بین الاقوامی کیرئیر ختم کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک شخص ان سے دبئی کے ٹیم ہوٹل میں ملا تھا جس نے مبینہ طور پر انہیں معاوضے کے عوض میچ فکس کرنے کی پیشکش کی اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی تھی۔

ذوالقرنین نے کہا کہ بظاہر وہ اکیلا ان کے سامنے آیا تھا لیکن انہیں یقین ہے کہ کچھ اور لوگ بھی اس کے ساتھ تھے۔

ذوالقرنین نے کہا کہ وہ شخص اردو بول رہا تھا لیکن اس کا لب و لہجہ پاکستانیوں سے مختلف تھا۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق ذوالقرنین حیدر نے کہا کہ اس صورتحال میں وہ کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتے تھے لہذا ٹیم چھوڑ کر لندن کو محفوظ جگہ کے طور پر منتخب کیا جہاں انسانی حقوق کے قوانین موثر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ انہیں یہ دھمکی دبئی میں ملی تھی لہذا دبئی میں رہنا ان کے لیے خطرناک ہوسکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ لندن میں امیگریشن حکام ان کا انٹرویو کر چکے ہیں اور انہیں مروجہ قوانین کے تحت وکیل کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن فی الحال ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ وکیل کی خدمات حاصل کرسکیں۔

ذوالقرنین حیدر نے کہا کہ اگر لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن نے ان سے رابطہ کیا اور قانونی مشاورت کے لیے مدد فراہم کی تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

ذوالقرنین نے کہا کہ ان کے بارے میں تحقیقات آئی سی سی کرے یا پاکستان کرکٹ بورڈ وہ منصفانہ ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں