کرکٹ میں چین کے عزائم

چین میں کرکٹ
Image caption چین کا ہدف دو ہزار بیس تک ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا درجہ حاصل کرنا ہے

چین کے جنوبی شہر گوانگزو میں سولہویں ایشیائی کھیلوں میں پہلی بار کرکٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ چین میں کچھ برس پہلے تک یہ کھیل صرف غیر ملکی کھیلتے تھے لیکن اب مقامی افراد اسے ایک بار پھر زندہ کر رہے ہیں۔

شنگھائی کی تونگجی یونیورسٹی میں ملک کے بہترین کھلاڑی ہر ہفتے کرکٹ کی پریکٹس کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ پریکٹس ایک فٹبال کے میدان میں کی جاتی ہے۔

چین میں یہ کھیل صرف پانچ سال قبل متعارف کروایا گیا ہے۔ کرکٹ کے ایک کھلاڑی بِل نے کہا کہ انہیں یہ کھیل ٹیم ورک کی وجہ سے پسند ہے۔

کھیل سیکھنے میں ممکنہ مشکلات کے بارے میں بِل نے کہا کہ اگر کھیل میں دلچسپی ہو تو یہ مرحلہ طے ہو جاتا ہے۔

خاتون کھلاڑی وانگ یوان نے، جو اسی گراؤنڈ میں مرد بالروں کے سامنے بیٹنگ کر رہی تھیں، کہا کہ کرکٹ گراؤنڈ کا نہ ہونا یا نیٹ پریکٹس کی سہولت نہ ہونا بڑا مسئلہ نہیں۔

شنگھائی کی یونیورسٹی میں مرد اور خواتین اکٹھے پریکٹس کرتے ہیں۔ میدان میں کھیل کا جذبہ تو بہت دکھائی دیا لیکن تکنیک کے شعبے میں ابھی بہت فاصلہ طے کیا جانا تھا۔

چین کی کرکٹ ایسوسی ایشن نے اپنے لیے مشکل اہداف رکھے ہیں۔ ان میں دو ہزار بیس تک ٹیسٹ میچ کھیلنے کا درجہ حاصل کرنا شامل ہے۔ تاہم کرکٹ کے کھلاڑی بِل کا خیال ہے چین کی ٹیم دو ہزار بیس میں ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا شروع نہیں کرے گی بلکہ میچ جیت رہی ہو گی۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ چین جب کسی کھیل میں ترقی کا پروگرام بناتا ہے تو نتائج حاصل کر لیتا ہے۔

اسی بارے میں