جنوبی افریقہ 380 پر آؤٹ

عمر گل فائل فوٹو
Image caption عمر گل نے جنوبی افریقہ کے تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا

دبئی میں کھیلے جا رہے پہلے ٹیسٹ کے دوسرے روز جنوبی افریقہ کی ٹیم پہلی اننگز میں دو اسی رنز کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہو گئی ہے۔

کھیل کے پہلے دن جنوبی افریقہ کے بلے باز کھیل پر چھائے رہے تھے لیکن دوسرے دن پاکستان کے بولروں نے کھیل کا دھارا کسی حد تک بدل دیا۔ جس میں سب سے نمایاں عمر گل رہے۔ وہاب گل کے زخمی ہوجانے کی وجہ سے سارا بوجھ عمر گل پر پڑ گیا تھا لیکن انھوں نے اسے بڑی خوبصورتی سے نبھایا۔عمر گل نے ایک آٹھ اووروں کے ایک سپیل میں پندرہ رن دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

دوسری جانب یونس خان نے بھی بولنگ کی اور جنوبی افریقہ کے بلے بازوں کو باندھے رکھا۔

یونس خان نے سات اوور کیئے اور صرف گیارہ رن دیئے۔

عمر گل نے نئی گیند سے اچھی بالنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کے مڈل آڈر کو ہلا کر رکھا دیا۔ عمر گل نے سو رن دے کر تین ووکٹ حاصل کئیں۔عبدالرحمان نے بھی پاکستان کی طرف سے تین ووکٹ حاصل کئیں۔

جنوبی افریقہ کی طرف سے ژاک کیلس جمئے ہوئے تھے اور بڑی ذمہ دارانہ اننگز کھیل رہے تھے لیکن سعید اجمل نے ان کی ووکٹ لے کر جنوبی افریقہ کی تین سو اسی پر آؤٹ کرنے کی راہ ہموار کر دی۔

دوسرے دن صبح جب میچ شروع ہوا تو تین سو چودہ پر تین کھلاڑی آؤٹ تھے۔ دوسرے دن چھیاسٹھ رنز کے عوض جنوبی افریقہ کی سات ووکٹیں گرئیں۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے ژاک کیلس اور پی ایل ہیرس نے دوسرے دن کے کھیل کا آغاز کیا۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

جنوبی افریقہ کی آٹھویں وکٹ تین سو سینتالیس کے مجموعی سکور پرگری جب ژاک کیلس تہتر رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ انہیں سعید اجمل نے آؤٹ کیا۔

تین سو پینتالیس رنز کے مجموعی سکور پر جنوبی افریقہ کی ساتوں وکٹ گری جب اے بی ڈویلیئر صرف پانچ رنز بنا کرآؤٹ ہوئے۔ انہیں بھی عمر گل نے آؤٹ کیا۔

پاکستان کی جانب سے عمر گل نے تین، عبدالرحمٰن نے تین، وہاب ریاض نے دو اور سعید اجمل نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

جنوبی افریقہ کی جانب سے کپتان گریم سمتھ نے آٹھ چوکوں کی مدد سے شاندار سینچری بنائی۔

جنوبی افریقہ کے دوسرے نمایاں بلے باز ہاشم آملہ تھے انہوں نے اسی رنز بنائے۔

جنوبی افریقہ کے تیسرے نمایاں بلے باز ژاک کیلس تھےانہوں نے تہتر رنز بنائے۔

دبئی میں کھیلے جانے والے اس میچ میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان کی ٹیم میں وکٹ کیپر عدنان اکمل اور محمد حفیظ کو شامل کیاگیا ہے۔

عدنان اکمل کو ذوالقرنین حیدر کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جو جنوبی افریقہ کے خلاف پانچویں ون ڈے سے قبل مبینہ طور پر میچ فکسنگ کے دھمکی آمیز پیغامات ملنے کے بعد دبئی سے لندن چلے گئے تھے۔

پچیس سالہ عدنان اکمل کا تعلق اکمل برادران سے ہے ان کے بڑے بھائی کامران اکمل اور چھوٹے بھائی عمراکمل بین الاقوامی کرکٹ میں پہلے ہی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

عدنان اکمل کا فرسٹ کلاس کیرئر سات سال پر محیط ہے اور اس عرصے میں وہ لاہور، سوئی گیس اور زرعی ترقیاتی بینک کی ٹیموں کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔

محمد حفیظ کی ٹیم میں شمولیت لیگ سپنر دانش کنیریا کی جگہ عمل میں آئی ہے جو اعلان کردہ ٹیسٹ ٹیم میں شامل تھے لیکن دبئی روانگی سے قبل انہیں یہ کہہ کر روک لیا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس ان کی کلیئرنس نہیں ہے۔

محمد حفیظ پاکستان کی طرف سے گیارہ ٹیسٹ میچوں میں دو سنچریاں اور تین نصف سنچریاں سکور کر چکے ہیں لیکن ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے برخلاف وہ ٹیسٹ ٹیم کا لازمی حصہ نہیں رہے انہوں نے آخری ٹیسٹ اکتوبر دو ہزار سات میں جنوبی افریقہ کے خلاف کراچی میں کھیلا تھا۔

پاکستان کی ٹیم: توفیق عمر، محمد حفیظ، یونس خان، مصباالحق، اظہر علی، عمر اکمل، عدنان اکمل، عبدالرحمن، وہاب ریاض، سعید اجمل اور عمر گل

جنوبی افریقہ کی ٹیم: گراہم سمتھ، الویرو پیڑسن، ہاشم آملہ، جیک کیلس، اے بی ڈویلیئر، مارک باؤچر، جوہان بوتھا، پال ہیرس، اے جی پرنس، ڈیل سٹین اور مارنی مارکل

اسی بارے میں