کامن ویلتھ کھیل:ایک اور گرفتاری

کامن ویلتھ کھیلوں کی فوٹو
Image caption کامن ویلتھ کھیلوں میں بدعنوانی کے الزام میں اب تک تین اہلکاروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے

ہندوستان کی مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی نے کامن ویلتھ کھیلوں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے سلسلے میں ایک اور اہلکار کو گرفتار کیا ہے۔

کامن ویلتھ کھیلوں کی انتظامیہ کمیٹی کے گرفتار ہونے والے رکن ایم جے چندرن کو ان کے عہدے سے اگست میں معطل کردیا گیا تھا۔ سی بی آئی کے ترجمان آر کے گور نے بتایا کے جے چندرن کو کئی مراحل کی تفتیش کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

بدعنوانی کے الزامات کے بعد کمیٹی نے اگست میں اپنے تین اہلکاروں کو معطل کیا تھا۔ ان اہلکاروں میں ٹی ایس درباری، ایم چندرن اور سنجے مہندرو شامل ہیں۔ مسٹر چندرن کھیلوں کے خزانچی کا عہدہ سنبھالے ہوئے تھے۔

جے چندرن پر الزام ہے کہ کامن ویلتھ کھیلوں کے انعقاد سے پہلے لندن میں ہونے والی کوئین بیٹن ریلے کے انعقاد کے لیے کمپنیوں کو جو ٹھیکے دیئے تھے ان میں گھپلا کیا گیا تھا اور یہ ٹھیکے اصول و ضوابط کی پرواہ کیے بغیر دیے گئے تھے۔

Image caption سریش کلماڈي کو کانگریس پارٹی میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا ہے

اس سے قبل سی بی آئی نے کامن ویلتھ کھیلوں کے دوران ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے الزام میں دو اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا۔

گرفتار ہونے والوں میں کامن ویلتھ گیمز کی انتظامی کمیٹی کے جوائنٹ ڈائریکٹر جنرل ٹی ایس درباری اور سنجے مہندرو شامل تھے۔

اس ماہ کی شروعات میں اسی سلسلے میں سریش کلماڈی کو کانگریس کے پارلیمانی سیکرٹری کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

اگرچہ سن دو ہزار تین میں جب دلی کو کھیلوں کی میزبانی حاصل ہوئی تھی تو کل اخراجات کا تخمینہ سات سو کروڑ روپے سے کم بتایا گیا تھا لیکن اب عام طور پر درست مانے جانے والے اندازوں کے مطابق پچاس سے ستر ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس میں ان دوسرے ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے والی رقم بھی شامل ہے جو کھیلوں کے موقع پر دلی میں کرائے گئے تھے۔

اسی بارے میں