فالوآن سے بچاؤ، مزید 68 رن درکار

Image caption اظہر علی نے بارہ چوکوں کی مدد سے نوے رن کی اننگز کھیلی

جنوبی افریقہ اور پاکستان کے مابین ابوظہبی میں جاری دوسرے کرکٹ ٹیسٹ کے تیسرے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں تین سو سترہ رنز بنا لیے ہیں اور اس کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہوئے ہیں۔

پاکستان کو اب بھی فالو آن سے بچنے کے لیے مزید اڑسٹھ رن درکار ہیں۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

دوسرے ٹیسٹ کا تیسرا دن: تصاویر

جب کھیل ختم ہوا تو کپتان مصباح الحق ستّتر کے انفرادی سکور پر کریز پر موجود تھے جبکہ عبدالرحمان نے کوئی رن نہیں بنایا تھا۔

تیسرے دن آؤٹ ہونے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی توفیق عمر تھے جو تینتالیس رن بنا کر ژاک کیلس کی گیند پر کیچ ہوئے۔ توفیق عمر اور اظہر علی کے درمیان دوسری وکٹ کے لیے ایک سو سترہ رن کی شراکت ہوئی۔

Image caption ڈی ویلیئرز 278 رنز بنا کر ناٹ اؤٹ رہے

گزشتہ ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے یونس خان اس مرتبہ صرف چودہ رن بنا سکے، انہیں ڈیل سٹین نے آؤٹ کیا۔ اظہر علی بھی نوّے رن بنا کر سٹین کا تیسرا شکار بنے۔ اسد شفیق نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں نصف سنچری بنائی، وہ اکسٹھ رنز بنا کر پال ہیرس کی گیند پر کیچ ہوئے۔ عدنان اکمل کو بھی ہیرس نے آؤٹ کیا۔

اس سے قبل دوسرے دن جنوبی افریقہ نے اپنی پہلی اننگز نو وکٹ پر پانچ سو چوراسی رنز بنا کر ڈیکلیئر کر دی تھی۔جنوبی افریقی اننگز کی خاص بات اے بی ڈی ویلیئرزکی شاندار ڈبل سنچری تھی، وہ 278 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ یہ جنوبی افریقہ کی طرف سے کسی بھی بلے باز کا سب سے زیادہ سکور تھا۔

پاکستان کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے میڈیم فاسٹ بولر تنویر احمد نے چھ، عبدالرحمان نے دو جبکہ محمد حفیظ نے ایک وکٹ حاصل کی۔

جنوبی افریقہ نے اس میچ کے لیے اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی جبکہ پاکستانی ٹیم میں عمر اکمل، وہاب ریاض اور سعید اجمل کی جگہ محمد سمیع، تنویر احمد اور اسد شفیق کو شامل کیا گیا ہے۔یہ تنویر احمد اور اسد شفیق کا پہلا ٹیسٹ میچ ہے۔

دو میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ دبئی میں کھیلا گیا تھا جو بے نتیجہ رہا تھا۔

جنوبی افریقہ کی ٹیم: گریم سمتھ، الویرو پیٹرسن، ہاشم آملہ، ژاک کیلس ، اے بی ڈیویلیئرز ، ایشول پرنس، مارک باؤچر، یوان بوتھا، پال ہیرس، ڈیل سٹین، اور مورکل۔

پاکستان کی ٹیم: توفیق عمر، محمد حفیظ، یونس خان، اظہر علی، مصباح الحق، اسد شفیق، عدنان اکمل، عمر گل، عبد الرحمن، محمد سمیع اور تنویر احمد۔

اسی بارے میں