اسے ڈرا نہیں جیت سمجھیے

مصباح الحق
Image caption جب آپ ایک بڑی ٹیم کے خلاف اچھا کھیلتے ہیں تو خود اعتمادی بڑھتی ہے: مصباح الحق

پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز شروع ہونے سے قبل جو اندازے لگائے گئے تھے وہ سیریز ختم ہونے پر غلط ثابت ہوگئے۔

اندازے کیا تھے اصل میں یہ وہ خدشات تھے جو عالمی نمبر دو ٹیسٹ ٹیم کے مقابلے میں رینکنگ کی چھٹے نمبر اور اپنی اندرونی مشکلات میں گھری پاکستانی ٹیم کی قوت دیکھتے ہوئے ظاہر کئے گئے تھے۔ لیکن دونوں ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی ٹیم نے جنوبی افریقہ کو جس طرح جیت سے دور رکھا مبصرین اسے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی جیت سمجھتے ہیں۔

اس سیریز کی کمنٹری کرنے والے پاکستان کے سابق کپتان رمیز راجہ کہتے ہیں ’ عام حالات میں سیریز برابر کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی لیکن پاکستانی ٹیم نے محدود وسائل کے ساتھ جو پرفارمنس دی وہ اطمینان بخش تھی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سیریز میں پاکستانی ٹیم میں فائٹنگ اسپرٹ دکھائی دی‘۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو اس کارکردگی پر اگر اطمینان ہے تو اس کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔ وہ دورۂ آسٹریلیا کے بعد ٹیم سے ڈراپ کردیئے گئے تھے اور ان کی ٹیم میں واپسی کپتان کی حیثیت سے ہوئی اور انہوں نے دونوں ٹیسٹ میں میچ بچانے والی اننگز کھیلیں۔

مصباح الحق کہتے ہیں’ انٹرنیشنل کرکٹ میں اصل امتحان پریشر سے نمٹنا ہوتا ہے اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب کسی کرکٹر کی ٹیم میں واپسی ہو رہی ہو۔ ’میں خوش ہوں کہ میں نے اچھی بیٹنگ کی اور دوسرے بیٹسمینوں نے بھی عمدہ پرفارمنس دی‘۔

پاکستانی ٹیم کے منیجر انتخاب عالم کو بھی مصباح الحق کی قابل ذکر کارکردگی کے ساتھ واپسی پر خوشی ہے ’مصباح کو جب کپتان بنایا گیا تھا تو اس فیصلے پر کچھ حلقوں نے تنقید کی تھی لیکن انہوں نے اپنی کارکردگی سے اس تنقید کا جواب دیا ہے۔ ٹیم کا مورال اسی وقت بلند ہوتا ہے جب کپتان اچھی کارکردگی دکھائے اور مصباح نے دونوں ٹیسٹ میچوں میں مشکل حالات میں ذمہ دارانہ بیٹنگ کی‘۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اگلی منزل نیوزی لینڈ ہے جہاں اسے دو ٹی ٹوئنٹی، پانچ ون ڈے اور دو ٹیسٹ میچز کھیلنے ہیں۔

رمیز راجہ نیوزی لینڈ کو ہمیشہ ایک ایسی ٹیم کے طور پر دیکھتے ہیں جو اپنے ملک میں حریفوں کو بہت تنگ کرتی ہے۔ ’نیوزی لینڈ میں وکٹیں سلو ہوتی ہیں لیکن گیند سیم ہوتی ہے گویا بیٹسمینوں کی آزمائش ہوگی۔ یہ عالمی رینکنگ کی دو نچلے نمبرز کی ٹیموں کی سیریز ہے لیکن پاکستانی ٹیم کو جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز ڈرا کرنے سے جو حوصلہ ملا ہے اس کے ساتھ وہ میدان میں اترے گی جب کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم بھارت سے سیریز ہاری ہے‘۔

کپتان مصباح الحق جنوبی افریقہ کے خلاف کارکردگی کو نیوزی لینڈ میں مزید بہتر کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ’جب آپ ایک بڑی ٹیم کے خلاف اچھا کھیلتے ہیں تو خود اعتمادی بڑھتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنی کنڈیشنز میں اچھی ہے اور اسے کسی طور آسان نہیں سمجھا جاسکتا۔ ہمیں نیوزی لینڈ کو ہرانے کے لئے اپنی موجودہ کارکردگی میں مزید بہتری لانی ہوگی‘۔

انتخاب عالم نیوزی لینڈ میں اپنے بولرز سے بہت پرامید ہیں۔ ’پیس اٹیک کے علاوہ اسپنرز عبدالرحمن اور سعید اجمل میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو دو بار آؤٹ کیا جاسکتا ہے‘۔

پاکستان نے گزشتہ سال کے اواخر میں نیوزی لینڈ کا دورہ کیا تھا اور اپنی ہوم سیریز کے تین ٹیسٹ میچز وہاں کھیلے تھے۔ یہ سیریز ایک ایک سے برابر رہی تھی ۔

پاکستان کی طرف سے فاسٹ بولر محمد آصف انیس، دانش کنیریا تیرہ اور محمد عامر سات وکٹوں کےساتھ قابل ذکر رہے تھے۔

یہ تینوں بولرز اس وقت ٹیم سے باہر ہیں لیکن رمیز راجہ کے خیال میں کرکٹرز کا آنا جانا لگا ہی رہتا ہے۔ ’پاکستانی کرکٹ کی یہ خصوصیت رہی ہے کہ چونکہ اس میں نیچرل ٹیلنٹ موجود ہے لہذا تنازعات اور مشکلات میں بھی زندگی برقرار رہتی ہے‘۔

اسی بارے میں