انتہاؤں کی دنیا: تعلیم

انتہاؤں کی دنیا کے پانچویں حصے میں تعلیم پر غور ہوگا۔

دنیا میں خواندگی کی شرح مختلف ممالک میں بہت مختلف ہے۔ مالی میں پندرہ سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کا صرف چھبیس اعشاریہ دو فیصد پڑھ لکھ سکتے ہیں۔ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح ننانوے یا سو فیصد ہے۔

دنیا کے ان بیس میں سے بہت سے ممالک جہاں خواندگی کی شرح کم ترین ہے، افریقہ میں ہیں۔ البتہ بنگلہ دیش اور پاکستان مثتثنیات میں ہیں جہاں شرحِِ خواندگی بالترتیب تریپن اعشاریہ پانچ فیصد اور چون اعشاریہ دو فیصد ہے۔

ان میں سے بہت سے ممالک میں لڑکیوں کو لڑکوں کی نسبت کم تعلیم دی جاتی ہے۔ چیریٹی پلان انٹرنیشنل کے مطابق موزمبیق اور نائیجر میں صرف تین فیصد لڑکیوں کو سکول بھیجا جاتا ہے۔

تعارف: انتہاؤں کی دنیا

شرحِ خواندگی تعلیمی معیار کی پیمائش کا واحد ذریعہ نہیں۔ عالمی بینک پرائمری سکولوں میں طلباء اور استاد کے تناسب کی درجہ بندی کرتا ہے۔ وسطی افریقی ممالک میں سو طلباء کے لیے ایک استاد ہے جبکہ لختنسٹائن میں صرف سات طلباء کے لیے ایک استاد ہے۔

دنیا میں سب سے بڑا سکول بھارت کے شہر لکھنؤ کا سٹی مونٹیسیری سکول ہے جہاں بتیس ہزار طلباء ہیں۔

عالمی بینک کے مطابق برطانیہ اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا تئیس اعشاریہ چار فیصد پرائمری تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ کیوبا میں یہی خرچ تقریباً چوالیس اعشاریہ سات فیصد ہے۔ کیوبا میں شرحِ خواندگی ایک بڑا مسئلہ رہی ہے لیکن نوجوانوں کو تعلیم دینے کی ایک بڑی مہم کا مطلب ہے کہ وہاں نوجوانوں میں شرحِ خواندگی اب سو فیصد ہے۔

چین میں دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نظام ہے جہاں دنیا کے پچیس فیصد طلباء کو تعلیم دی جاتی ہے۔ چین میں کالج کے طلباء کی تعداد جو انیس سو اٹھانوے میں چھ اعشاریہ دو ملین تھی سنہ دو ہزار آٹھ میں بڑھ کر چوبیس ملین سے کچھ کم ہے۔ امریکہ میں یہی تعداد چودہ ملین ہے۔ گزشتہ برس چینی جامعات سے فارغ التحصیل چھ اعشاریہ ایک ملین نئے گریجوایٹس ملازمتوں میں آئے۔