فٹ بال ورلڈ کپ: 2018 روس، 2022 قطر

فٹ بال کی گورننگ باڈی فیفا نے فیصلہ کیا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ میں فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد روس میں ہوگا جبکہ دو ہزار بائیس میں فٹ بال کپ مشرق وسطیٰ کے ملک قطر میں ہوگا۔ انگلینڈ کو فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اکیس اراکان میں سے صرف ایک ووٹ ملا۔

یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ فٹ بال ورلڈ روس میں ہوگا۔ انگلینڈ میں پچھلی بار ورلڈ کپ کا انعقاد انیس سو چھیاسٹھ میں ہوا تھا۔

میزبانی ملنے پر روس کے وزیراعظم ولادی میر پوتن نے فیفا کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کیا ہے۔

ولادی میر پوتن نے کہا کہ سب سے پہلے تو وہ فیفا کے صدر بلیٹر اور ایگزیکیٹو کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کا فیصلہ ہمارے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ایسا فیصلہ بلاشبہ فیفا کے اُس فلسفے کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ ان خطوں میں فٹبال کا فروغ چاہتا ہے جہاں اس کی ضرورت ہے۔’ روس میں ہم فٹبال سے پیار کرتے ہیں اور ہم فٹبال کے بارے میں جانتے ہیں اور ہمارے ملک میں ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے سب کچھ موجود ہے۔‘

انگلینڈ نے سنہ دو ہزار اٹھارہ کے فٹبال کی میزبانی نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

انگلینڈ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، پرنس ولیم اور ڈیوڈ بیکہم پچھلے کئی روز سے سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورچ میں لابنگ میں مصروف تھے۔

انگلینڈ کو قوی امید تھی کہ وہ فیفا کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ 2018 میں فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد کے لیے انگلینڈ سب سے موزوں جگہ ہے لیکن وہ اس میں بری طرح ناکام رہے۔

انگلینڈ اور روس کے علاوہ پرتگال ۔سپین اور بیلجیئم ۔ہالینڈ نے مشترکہ بولی دی تھی۔

پرنس ولیم نے فیفا کے اعلان کے بعد کہا کہ وہ فٹ بال ورلڈ کپ کو انگلینڈ میں لانے میں ناکامی پر انتہائی مایوس ہیں۔

فیفا نے سال دو ہزار بائیس میں ورلڈ کپ کے قطر کو منتخب کیا ہے۔ قطر کے علاوہ آسٹریلیا، امریکہ ، جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی بولی دی تھی۔

فیفا کے چیئرمین نے فیفا ایگزیکٹو کونسل کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہ فیفا فٹ بال کو دنیا کے ہر کونےمیں مقبول کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Image caption 2022 میں ورلڈ کپ کا انعقاد قطر میں ہو گا

دو ہزار چودہ میں فٹ بال ورلڈکپ برازیل میں منعقد ہو رہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں برطانیہ کے ذرائع ابلاغ نے کچھ فیفا اراکین کے حوالے سے کچھ ایسی رپورٹس نشر کی ہیں جن میں ان پر الزام عائد کیاگیا ہے کہ انہوں نے مختلف ادوار میں رشوت لی تھی۔ برطانوی وفد کوشش کر رہا تھا کہ منفی رپورٹنگ کی وجہ سے انگلینڈ کی بولی متاثر نہ ہو۔

انگلینڈ کے ورلڈ کپ کی بولی کے لیے مشیر سر کیتھ ملز نے کہا کہ فیفا کا فیصلہ یقیناً انگلینڈ کے شائقین کےلیے مایوس کن ہے لیکن ہم سمجھتے تھے کہ ہماری بولی سب سے بہتر تھی۔ انہوں نے کہا کہ’انگلینڈ کے تین شیروں (وزیر اعظم کیمرون، پرنس ولیم اور ڈیوڈ بیکہم) نے انتہائی عمدہ کام کیا۔ ‘

انہوں نے کہا ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فیفا کی سوچ ہم سے مختلف ہے اور وہ ورلڈ کپ کا انعقاد ترقی یافتہ ممالک میں چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں