’ورلڈ کپ کی تیاری میں تاخیر‘

Image caption اصل مسئلہ پاکستانی امیج کو بحال کرنے کا ہے:وقار یونس

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقاریونس نے کہا ہے کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی وجہ سے پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کی تیاری کے معاملے میں پیچھے ہے۔

وقاریونس نے سڈنی سے بی بی سی کو دیئےگئے انٹرویو میں کہا کہ آئیڈیل صورتحال تو یہ ہوتی کہ ورلڈ کپ کےلیے پاکستانی ٹیم کا کامبی نیشن واضح ہوچکا ہوتا اور معاملات ٹھیک ہوجانے چاہیے تھے لیکن سپاٹ فکسنگ کے اسکینڈل کے فیصلے اتنی جلدی نہیں کئے جاسکتے تھے۔’ چونکہ صورتحال ابھی واضح نہیں ہے اسی لیے پاکستان کی تیاریاں کچھ تاخیر کا شکار ہیں۔‘

وقار یونس کا انٹرویو

وقاریونس نے کہا کہ صورتحال واضح ہونے کے بعد ہی سلیکٹرز اور کوچز اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے سکتے ہیں حالانکہ انہیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ ورلڈ کپ بہت نزدیک ہے لیکن وہ کیا کرسکتے ہیں کیونکہ حالات پر ان کا بس نہیں۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ اس بارے میں واضح طور پر سوچ لینا پڑے گا کہ اگر معطل کرکٹرز ٹیم میں شامل نہیں ہوتے ہیں تو ان کے بغیر بھی کھیلنا ہے۔ہمیں مثبت انداز میں سوچنا ہوگا۔

جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں باصلاحیت کرکٹرز کی عمدہ کارکردگی کے بعد زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مشکل حالات سے گزرنے والی پاکستانی ٹیم نے دنیا کی نمبر دو ٹیم کےخلاف جو کارکردگی دکھائی ہے وہ دراصل ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیغام ہے کہ پاکستانی ٹیم کو کسی بھی مرحلے پر نظرانداز نہیں کیاجاسکتا کیونکہ اس میں ٹیلنٹ اور مہارت موجود ہے۔

وقاریونس نے کہا کہ اصل اہمیت پاکستانی امیج کو بحال کرنے کی ہے جو اس سکینڈل کی وجہ سے بہت خراب ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کی تیاری کے تناظر میں نیوزی لینڈ کے دورے کی بہت اہمیت ہے لیکن یہ دورہ آسان نہیں کیونکہ نیوزی لینڈ کی ٹیم اپنے میدانوں پر سخت حریف کے طور پر سامنے آتی ہے۔اس دورے میں جو کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے یقیناً وہ ورلڈ کپ کے لیے بھی نظر میں رہیں گے۔

پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ کے دورے میں دو ٹی ٹوئنٹی دو ٹیسٹ اور چھ ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے گی۔

اسی بارے میں