لوگارٹ کے بیان کی مذمت

ہارون لوگارٹ
Image caption ہارون لوگارٹ نے کہا تھا کہ اگر سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو بے گناہ قرار دیا گیا تو انہیں مایوسی ہو گی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ کے حالیہ بیان کی پاکستان کے کرکٹ حلقوں میں شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

ہارون لوگارٹ نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر سپاٹ فکسنگ میں مبینہ طور پر ملوث پاکستان کے تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر کو ٹریبیونل نے بے گناہ قرار دیا تو انہیں مایوسی ہو گی۔

نامہ نگار مناء رانا سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے سابق چیف سلیکٹر عبدالقادر نے کہا کہ آئی سی سی کا رویہ پاکستان کی کرکٹ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں بد عنوانی پر آئی سی سی کا رویہ یکساں نہیں۔

’اگر بھارت یا سری لنکا کے کسی کھلاڑی پر ایسا کوئی الزام لگے تو آئی سی سی اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتی جب کہ پاکستان کے تینوں کھلاڑیوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی ہے۔‘

عبدالقادر کے بقول ہارون لوگارٹ کا یہ بیان نا قابل فہم ہے اور انہیں ایسی بات نہیں کرنی چاھیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انصاف کے خلاف بات ہے ۔ ان تینوں کھلاڑیوں کے کیس کی سماعت قریب ہے اور اس موقع پر آئی سی سی کے اعلی عہدیدار کا ایسا کہنا براہ راست اس کیس کی سماعت کرنے والے ججز پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹنینٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ ہارون لوگارٹ کا یہ بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہے اس لیے کہ کھلاڑیوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے والا یہ ٹریبیونل آئی سی سی نے ہی تشکیل دیا ہے اور ایسا بیان ٹریبیونل کے فیصلے پر اثر انداز ہو گا اور یہ بات انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔

سابق چیئرمین نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ہارون لوگارٹ کے پاس جو شواہد موجود ہیں ان کے سبب انہوں نے ایسی بات کی ہو لیکن اس کے باوجود اس طرح کا بیان دینا درست نہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس بیان پر سخت ایکشن لینا چاہیے۔

سابق فاسٹ بالر سکندر بخت کے خیالات بھی ایسے ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے ایک ذمہ دار عہدیدار کی جانب سے یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے اس بیان سے تو ٹریبیونل کے اراکین براہ راست متاثر ہوں گے کیونکہ یہ ٹریبیونل تو خود آئی سی سی کا ہی بنایا ہوا ہے۔ سکند بخت نے کہا کہ یہ تو ایسا ہی ہے کہ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ مجھے کسی کھلاڑی کے معاملے میں ڈسپلنری کمیٹی کا رکن چنے اور پھر خود ہی یہ کہہ دے کہ وہ کھلاری قصور وار ہے۔ ’ ظاہر ہے میں اس ادارے کے خیالات سے الگ فیصلہ دیتے ہوئے سوچوں گا۔‘

سکندر بخت نے کہا کہ لگتا ہے کہ آئی سی سی نے یہ طے کر رکھا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کو سزا دے کر ایک نمونہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہارون لوگارٹ نے جس طرح اپنے خیالات کا اظہار کیا اس سے ہمارے دلوں میں یہ شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں کہ ہمارے کھلاڑیوں کے ساتھ انصاف نہیں ہو گا۔

اسی بارے میں