ذوالقرنین کمزور اعصاب کا مالک: کمیٹی کی رپورٹ

Image caption ذوالقرنین پانچ جنوری کو اپنی پناہ کی درخواست کے سلسلے میں دوبارہ برطانوی حکام کے سامنے پیش ہوں گے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق وکٹ کیپر ذالقرنین حیدر کے ٹیم چھوڑ کر لندن چلے جانے کے معاملے کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے انہیں ’کمزور اعصاب کا مالک اور ایک الجھا ہوا شخص قرار دیا ہے۔‘

تاہم کمیٹی ان کے اس اقدام کے واضح محرکات کا پتہ چلانے میں ناکام رہی ہے۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور نے بتایا ہے کہ تین رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ وہ ذوالقرنین حیدر سے تحریری طور پر تمام تفصیلات طلب کرے اور انہی کی روشنی میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر کیا تادیبی کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونےو الی ون ڈے سیریز کے دوران ذوالقرنین حیدر ٹیم منیجمنٹ سے پاسپورٹ حاصل کرکے لندن چلے گئے تھے اور اس وقت سے وہ وہیں مقیم ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست بھی دے رکھی ہے۔

ذوالقرنین نے ٹیم چھوڑنے کے اپنے فیصلے کا سبب ایک گمنام شخص کی جانب سے انہیں خراب کارکردگی کے لیے معاوضے کی پیشکش اور نہ ماننے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی قرار دیا تھا۔

ذوالقرنین حیدر وقتافوقتاً فیس بک پر کرکٹ میں موجود کرپٹ افراد کو بے نقاب کرنے سے متعلق پیغامات درج کرتے ہیں لیکن ابھی تک ان کی طرف سے کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی ہے۔

رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ذوالقرنین کی اچانک روانگی سے قبل رات کو فاسٹ بولر وہاب ریاض ان کے کمرے میں تھے لیاکن انہوں نے ایسی کوئی بات محسوس نہیں کہ ذوالقرنین پریشان ہوں بلکہ وہ نارمل تھے جبکہ وہ جاتے ہوئے اسسٹنٹ منیجر شاہد اسلم اور یونس خان سے ملے تھے اور یہ کہا تھا کہ وہ اپنے عزیزوں سے ملنے جارہے ہیں۔

کمیٹی نے اس بات پر سخت حیرانی ظاہر کی ہے کہ ذالقرنین نے گمنام شخص کی مبینہ دھمکی کا ذکر ٹیم منیجمنٹ سے نہیں کیا۔

اس بارے میں ذوالقرنین اپنے انٹرویوز میں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایسا کرکے پوری ٹیم کومشکلات میں ڈالنا نہیں چاہتے تھے۔

ذوالقرنین پانچ جنوری کو اپنی پناہ کی درخواست کے سلسلے میں دوبارہ برطانوی حکام کے سامنے پیش ہوں گے۔

اسی بارے میں