سپاٹ فکسنگ، پاکستان کھلاڑی دوہا پہنچ گئے

محمد عامر فائل فوٹو
Image caption عامر اور آصف اس معاملے پر جلد از جلد فیصلہ چاہتے ہیں جبکہ سلمان بٹ تاخیر کے خواہاں ہیں

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے سپاٹ فکسنگ کے الزامات سامنا کرنے والے تینوں پاکستانی کرکٹر آئی سی سی ٹربیونل کی سماعت کے لیے دوہا پہنچ گئے ہیں۔

پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کے دوران سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور چھ سے گیارہ جنوری کے دوران آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کمیشن کے سربراہ مائیکل بیلوف کی سربراہی میں قائم ایک غیر جانبدار ٹربیونل اس معاملے کی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سنائے گا۔

یہ وہی مائیکل بیلوف ہیں جنہوں نے اکتوبر کے آخر میں سلمان بٹ اور محمد عامر کی جانب سے معطلی کے خاتمے کے لیے دی گئی درخواستوں کی سماعت کی تھی اور ان کی معطلی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

اس فیصلے کے بعد سلمان بٹ نے دوہا میں ہونے والی سماعت ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی رپورٹ آنے تک آئی سی سی ٹریبونل کی سماعت موخر کی جائے۔ تاہم انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق ٹریبونل کے سامنے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کپتان شاہد آفریدی اور ٹیم کے سابق سکیورٹی افسر میجر خواجہ نجم بھی بیان قلمبند کرائیں گے اور تینوں کرکٹرز کے وکلا ان پر جرح کریں گے۔

اس کیس میں سلمان بٹ کی وکالت برطانوی وکیل یاسین پٹیل کر رہے ہیں، محمد عامر کے وکیل شاہد کریم ہیں جبکہ محمد آصف نے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے بھائی ایلن کیمرون کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔

سلمان بٹ کے سابق وکلا اس کیس میں آئی سی سی پر جانبداری کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ ان کا اعتراض پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا تھا جب کھلاڑیوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ اس میں بیٹھے تھے۔

دوسری بار انہوں نے ہارون لوگارٹ کے اس بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستانی کرکٹرز سزا سے بچ گئے تو انہیں سخت مایوسی ہوگی۔

خیال رہے کہ سپاٹ فکسنگ کا یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب برطانوی اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ نے پاکستانی کھلاڑیوں پر ایک بکی سے لارڈز ٹیسٹ میں نو بالز کروانے کے عوض رقم لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس الزام کے سامنے آنے کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی تھیں اور محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کو پاکستانی ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے بقیہ میچوں میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں