دوہا: سپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت شروع

پاکستانی کرکٹرز فائل فوٹو
Image caption کیس کی سماعت گیارہ جنوری تک جاری رہے گی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی) کے انسداد بدعنوانی ٹریبونل نے سپاٹ فکسنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے تین پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف دوہا میں جمعرات کو سماعت شروع کردی، جو گیارہ جنوری تک جاری رہے گی۔

پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ، فاسٹ بولر محمد آصف اور محمد عامر کے خلاف پاکستان کے دورۂ انگلینڈ کے دوران آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کے آرٹیکل 2 کے تحت سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

تینوں کھلاڑی الزامات کا سامنا کرنے کے لیے دوہا میں ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے۔

آئی سی سی کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو دوہا میں بتایا کہ آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کمیشن کے سربراہ مائیکل بیلوف کی سربراہی میں قائم ایک غیر جانبدار ٹربیونل اس معاملے کی سماعت گیارہ جنوری تک کرے گا، سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ متوقع ہے۔

اس کیس میں سلمان بٹ کی وکالت برطانوی وکیل یاسین پٹیل کر رہے ہیں، محمد عامر کے وکیل شاہد کریم ہیں جبکہ محمد آصف نے برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون کے بھائی ایلن کیمرون کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔

سلمان بٹ کے سابق وکلاء اس کیس میں آئی سی سی پر جانبداری کا الزام عائد کر چکے ہیں۔ اُن کا اعتراض پہلی مرتبہ اُس وقت سامنے آیا تھا جب کھلاڑیوں کی عارضی معطلی ختم کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ اس میں بیٹھے تھے۔

دوسری بار انہوں نے ہارون لوگارٹ کے اُس بیان پر شدید ردِعمل ظاہر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستانی کرکٹرز سزا سے بچ گئے تو انہیں سخت مایوسی ہوگی۔

خیال رہے کہ سپاٹ فکسنگ کا یہ تنازعہ اُس وقت سامنے آیا تھا جب برطانوی اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ نے پاکستانی کھلاڑیوں پر ایک بکی سے لارڈز ٹیسٹ میں نو بالز کروانے کے عوض رقم لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

اس الزام کے سامنے آنے کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی تھیں اور محمد عامر، محمد آصف اور سلمان بٹ کو پاکستانی ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے بقیہ میچوں میں شرکت سے روک دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں