سپاٹ فکسنگ:’بچاؤ کے امکانات کم ہی ہیں‘

Image caption محمد عامر کے وکیل نے ٹریبونل سے استدعا کی تھی کہ وہ مقدمے کا فیصلہ فوراً نہ کرے

پاکستانی کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ سپاٹ فکسنگ کے الزامات سے پاکستانی کھلاڑیوں کے بری ہونے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار مناء رانا سے بات کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے ان کھلاڑیوں کے خلاف کافی ثبوت اور شواہد اکٹھے کر رکھے ہیں اور کافی مضبوط کیس تیار کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آئی سی سی کا ان کھلاڑیوں کے خلاف کیس مضبوط نہ ہوتا تو آزاد ٹریبونل نہ بنایا جاتا اور نہ ہی کیس کی اتنی لمبی سماعت ہوتی۔توقیر ضیاء کے مطابق آئی سی سی مکمل ثبوتوں کے ساتھ ان کے خلاف میدان میں اس لیے آئی ہے کہ بعد میں یہ کھلاڑی عدالت کا رخ نہ کر لیں۔

جنرل توقیر ضیاء کے مطابق ہو سکتا ہے کہ محمد عامر کو کم عمری کا فائدہ دے کر کچھ کم سزا دی جائے جبکہ باقی دونوں کھلاڑیوں کو تو زیادہ سخت سزا ملنے کا امکان ہے۔

پاکستان کے سابق سپنر اور سابق چیف سلیکٹر اقبال قاسم کے بقول اگرچہ ان کی خواہش ہے کہ ان کھلاڑیوں پر الزامات ثابت نہ ہوں لیکن وہ کچھ زیادہ پر امید نہیں ہیں اور جس طرح کی خبریں آ رہی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے سزا سے بچ نکلنے کے امکانات بہت کم ہیں۔

اقبال قاسم کے بقول انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی کوشش ہے کہ ان کھلاڑیوں کو سزا دے کر دوسرے کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال قائم کر دی جائے تاکہ کھیل سے بد عنوانی ختم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ انہیں سزا ملنے کے بعد باقی کرکٹرز اپنے رویوں میں محتاط ہو جائیں گے۔

دوسری جانب سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان کے سپاٹ فکسنگ میں ملوث ان کھلاڑیوں کو سزا دینے سے کرکٹ سے بد عنوانی ختم ہو سکتی ہے کیونکہ ایسا تو نہیں ہو سکتا کہ صرف پاکستانی کھلاڑی ہی سپاٹ فکسنگ کرتے ہوں اور باقی ملکوں کے کھلاڑی باکل بھی ملوث نہ ہوں۔

لیفٹینٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء کا کہنا تھا کہ کرکٹ سے بد عنوانی ختم کرنے کے لیے آئی سی سی کو نہ صرف اپنے اینٹی کرپشن یونٹ کو مزید فعال اور اس کے کام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے بلکہ بکیوں اور کرکٹ کا جوا کروانے والے عناصر کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کرنا ہو گا جو دراصل اس مسئلے کی جڑ ہیں وگرنہ صرف پاکستانی کھلاڑیوں کو سزا دینے سے کرکٹ سے بدعنوانی ختم نہیں ہو سکتی۔

اسی بارے میں