’ٹیسٹ کرکٹ میں سب کچھ ہے‘

Image caption لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں بھارت اور انگلینڈ کے درمیان کرکٹ کی تاریخ کا دو ہزار واں ٹیسٹ آج شروع ہو رہا ہے

آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان سنہ اٹھارہ سو ستتر میں میلبرن میں کھیلا گیا میچ ، کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ قرار پایا تو اس وقت شاید ہی کسی نےسوچا ہو کہ آنے والے برسوں میں یہ کھیل محض چند ملکوں میں کھیلے جانے کے باوجود اپنا سکہ جمائے گا۔

کرکٹ کی تاریخ کا پہلا سنگ میل اس وقت آیا جب ٹیسٹ کرکٹ کی ایک صدی مکمل ہونے پر آسٹریلیا اور انگلینڈ نے میلبرن گراؤنڈ میں میچ کھیلا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس صد سالہ ٹیسٹ میچ کا نتیجہ تاریخ کے اولین ٹیسٹ میچ سے ذرا بھی مختلف نہ تھا یعنی آسٹریلیا پنتالیس رنز سے فاتح رہا۔

ٹیسٹ کرکٹ کے ان سو برسوں میں آٹھ سو میچز کھیلے جاچکے تھے۔ سات سال بعد اس سفر کا اہم پڑاؤ آیا یعنی ایک ہزار ٹیسٹ میچوں کی تکمیل۔

پہلے ایک ہزار ٹیسٹ میچوں کی تکمیل میں ایک سو سات برس بیت گئے لیکن کچھوے کی چال چلنے والی ٹیسٹ کرکٹ نے اگلے ایک ہزار ٹیسٹ میچوں کے لئے لمبی چھلانگ لگائی اور صرف ستائیس برسوں میں یہ ہزار ٹیسٹ میچز کھیلے گئے یعنی ایک سال میں اوسطاً سنتیس ٹیسٹ میچز۔

ٹیسٹ کرکٹ ہر زاویئے اور ہر پہلو سے نمایاں رہی ہے جس میں کارکردگی کی ٹھوس بنیاد بھی ہے اور بڑے ناموں کا سحر بھی۔ ریکارڈز کا خزانہ بھی ہے اور تنازعات کی چنگاریاں بھی ۔

ٹیسٹ کرکٹ پر سب سے بڑا اعتراض اس کی سست روی کا کیا جاتا ہے لیکن ایسے کئی میچز ان ناقدین کو بھرپورجواب دینے کے لیے موجود ہیں جو پانچ روز کی کرکٹ کو غیردلچسپ اور بے رنگ قرار دے کر اس سے منہ موڑنے کی بات کرتے ہیں۔

انفرادی کارکردگی کے ضمن میں کئی کرکٹرز کے نام سامنے آتے ہیں۔ بیٹنگ میں سرڈان بریڈمین کسی بھی بلے باز کو پرکھنے کا سب سے معتبر پیمانہ سمجھے جاتے ہیں جن کی ننانوے اعشاریہ نو چار کی اوسط تک رسائی کسی بھی بلے باز کے لیے ایک خواب ہی رہی ہے۔

مرلی دھرن ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ آٹھ سو وکٹیں حاصل کر کے میدان سے رخصت ہوئے لیکن ان کی وجۂ شہرت ان کے بولنگ ایکشن کے سبب رہی جو بہت سوں کے لیے قابلِ قبول نہ تھا ۔

ٹیسٹ کرکٹ میں عروج وزوال کی کئی داستانیں رقم ہوئیں۔

کبھی بریڈمین کی آسٹریلوی ٹیم سب سے طاقتور سمجھی گئی تو کبھی پلڑا انگلینڈ کی طرف جھکا رہا اور جب ٹیسٹ کرکٹ نے ان دونوں ملکوں سے باہر پیر پھیلائے تو دنیا نے ویسٹ انڈین سیاہ آندھی کے سامنے بڑے بڑوں کے برج الٹتے دیکھے۔

اسی دور میں ڈینس للی اور جیف تھامسن نے بلے بازوں کو زخموں کی سکائی کرانے کا پورا پورا سامان فراہم کیا تو وسیم اکرم اور وقار یونس کی ریورس سوئنگ بلے بازوں کے لیے ایک معمہ بن کر سامنے آئی ۔

فاسٹ بولنگ کے اس طوفان میں بھارتی اسپنرز بیدی۔ چندرشیکھر۔ وینکٹ اور پرسنا کی چوکڑی نے بھی خوب دھماچوکڑی مچائی ۔

کھیل کوئی بھی ہو کرداروں سے ہی اس میں جان پڑتی ہے اور کرکٹ کو بھی ایسے کئی منفرد کردار میسر آئے جن کا شہ سرخیوں میں رہنا خود اس کھیل کے لئے فائدہ مند رہا ۔

شین وارن اور شعیب اختر میدان میں اپنی کارکردگی سے زیادہ آف دی فیلڈ مشہور رہے اور ضدی بچوں کے طور پر پہچانے گئے۔

کرکٹ دوسرے کھیلوں سے اس لیے بھی منفرد ہے کہ اعداد وشمار کے گورکھ دھندے میں ایک سو چونتیس سال میں جو کچھ بھی ہوا ہے وہ نظروں سے اوجھل نہیں بلکہ ریکارڈ بک میں ہر وکٹ اور ہر رن کا حساب کتاب درج ہے۔

برائن لارا کی چار سو رنز کی اننگز ہو یا جم لیکر کی مچ میں انیس وکٹیں یہ میدان کے خوبصورت نظارے ہیں لیکن یہ ریکارڈ بک میں اپنی تمام تر تفصیل کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوچکے ہیں۔

کرکٹ اور کرپشن کا تعلق بہت پرانا نہیں ہے ۔ یہ تعلق اس وقت بنا جب یہ احساس اجاگر ہوا کہ کرکٹ صرف کھیل نہیں بلکہ سونے کی کان ہے تو پیسے کی چمک دمک نے کئی کرکٹرز کو مالا مال تو کردیا لیکن ہوس زر نے کئی کرکٹرز کی جھولی میں رسوائی بھی ڈال دی ۔

زمانے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کے انداز بھی بدلے ہیں۔

اب یہ اس مقام پر آچکی ہے کہ اس کے ’رکھوالے‘ اس کے دامن کو ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کی آگ سے بچانے میں مصروف ہیں لیکن ان کے لئے یہ مقولہ غلط ثابت کرنا اتنا آسان نہیں ہے کہ گھر کو آگ لگی گھر ہی کے چراغ سے۔

اسی بارے میں