سمانتھا سٹوسر نئی یو ایس اوپن چیمپئن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ دن میرے بہترین دنوں میں سے ایک ہے: سٹوسر

آسٹریلوی ٹینس سٹار سمانتھا سٹوسر نے تین بار کی یو ایس اوپن چیمپئن سرینا ولیم کو سٹریٹ سیٹس میں شکست دے کر یہ چیمپئن شپ جیت لی ہے اس طرح چالیس سال بعد یہ ٹائیٹل دوباہ آسٹریلیا کے نام ہوا ہے۔

خواتین کے سنگل فائنل میں اس وقت ناخوشگوار صورتحال پیدا ہو گئی جب ریفری نے سرینا ولیم کا ایک پوائنٹ سمانتھا کے کھاتے میں اس لیے ڈال دیا کہ مس ولیمز نے کھیل کے دوران زوردار آواز نکالی جس سے ان کی مخالف کھلاڑی پریشان ہو گئیں۔ وہ پوائنٹ نہ ملنے پر تین بار یو ایس اوپن چیمپئن ریفری کے ساتھ بحث بھی کی۔

سرینا ولیم کو شکست دینے کے بعد سٹوسر نے کہا ’یہ دن میرے بہترین دنوں میں سے ایک ہے اور میں بہت خوش قسمت ہوں کہ میں نے یہ کامیابی نیویارک میں اس مرحلے پر حاصل کی ہے۔‘

انہوں نے کہا ’جب سے میں نے کھیلنا شروع کیا ہے یہ میرا خواب تھا کہ میں ایک دن اس مقام تک پہنچوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کہنا چاہیے۔ سرینا تم کمال کی کھلاڑی ہو۔ بڑی چیمپئن ہو اور ہمارے کھیل میں تم نے حیرت انگیز کھیل کھیلا ہے۔‘

ستائیس سالہ سٹوسر کا تعلق آسٹریلیا کی ریاست کوئنزلینڈ سے ہے۔ سٹوسر سے پہلے یو ایس اوپن کا اعزاز جیتنے والی آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی آخری کھلاڑی مارگریٹ کورٹ تھیں جنہوں نے یہ اعزاز سنہ انیس سو تہتر میں حاصل کیا تھا۔

سرینا ولیم نے اپنی شکست کے وقت اپنا ریکٹ جھنجھلاہٹ میں زمین پر دے مارا۔ ایک موقع پر جب وہ اپنا کھیل بچاتے ہوئے پوائنٹ لینے میں کامیاب ہوئیں تو انہوں نے زور سے کہا ’کم آن‘۔ زور سے آواز نکالنے پر امپائر نے ان کا پوائنٹ ان کی مخالف کھلاڑی سٹوسر کو دے دیا جس پر سرینا نے امپائر کو گھور کر دیکھا۔

بعد میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سرینا ولیم نے کہا ’اس پوائنٹ سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا تھا۔‘

سرینا ولیم ایک سال پہلے زخمی ہونے کے باعث کھیل نہیں سکی تھی اور یہ ایک برس بعد ان کی گرینڈ سلیم میں واپسی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا ’چھ ماہ پہلے ہسپتال میں میں چل بھی نہیں سکتی تھی لیکن میرے والدین اور میری بہنوں کا اور سب کا میں شکریہ ادا کرتی ہوں کہ اب میں یہاں ہوں۔ میں جذباتی ہورہی ہوں، ہوسکتا ہے میں رونا شروع کردوں۔ میں یہاں تک پہنچنے پر بہت خوش ہوں، بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘

اسی بارے میں