اولمپکس تمغے جیتنے کے لیے رشوت کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اے آئی بی اے نے تمغے فکس کرنے کی کسی معاہدے کی تردید کی ہے

ایمیچیور انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن نے ان الزامات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ آذر بائیجان نے لندن اولمپکس کے باکسنگ مقابلے فکس کرنے کے لیے ورلڈ سیریز باکسنگ کو ایک کروڑ ڈالرز دیے ہیں۔

یہ الزام بین الاقوامی باکسنگ سے وابستہ ذرائع کی جانب سے سامنے آیا ہے جنہوں نے بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام کو اس بارے میں معلومات فراہم کی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایس بی کے چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ دس ملین ڈالر کی ادائیگی کے نتیجے میں آذربائیجان کو یہ ضمانت دی گئی ہے اس کے باکسرز لندن میں منعقد ہونے والے سنہ دو ہزار بارہ کے اولمپکس میں سونے کے دو میڈلز جیتیں گے۔

خفیہ معلومات کو منظرِ عام پر لانے والوں کے مطابق اے آئی بی اے کے چیف آپریٹنگ آفیسرمسٹر خوداباکش نے انہیں بتایا کہ آذربائیجان کی جانب سے ان کے باکسرز کو لندن اولمپکس کے باکسنگ مقابلوں میں سونے کا تمخہ جتوانے کے لیے خفیہ طور پر فنڈنگ کی جا رہی ہے۔

اولمپکس کے باکسنگ مقابلوں کی تنظیم انٹرنیشنل ایمیچیور باکسنگ ایسوسی ایشن (اے آئی بی اے) نے تسلیم کیا ہے کہ آذر بائیجان کے ایک شہری نے اپنے ملک کے باکسر کے ایک حریف کو نو ملین ڈالر دیے ہیں۔ تاہم انہوں نے میڈلز ’فکس‘ کرنے کی کسی معاہدے کی تردید کی ہے۔

اے آئی بی اے کے وکلاء نے بی بی سی کو بتایا کہ لندن اولمپکس کے دوران باکسنگ مقابلوں میں میڈلز فکس کا الزام جھوٹ پر مبنی ہے۔ اے آئی بی اے کے صدر ڈاکٹر چنگ کیو ویو نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا یہ دعویٰ مضحکہ خیر ہے اور یہ کہ ڈبلیوایس بی کے معاملات شفاف طریقے سے انجام دیے جاتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اے آئی بی اے میں بد عنوانی برداشت نہیں کی جائے گی اور ان الزمات کی فوری تفتیش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ اے آئی بی اے باکسنگ کی بین الاقوامی گورننگ باڈی ہے جسے بین الاقوامی اولمپک کمیٹی تسلیم کرتی ہے۔

اے آئی بی اے کے صدر ڈاکٹر چنگ کیو نے بی بی سی نیوز نائٹ کو بتایا کہ وہ گزشتہ چار سال سے باکسنگ میں بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور یہ کہ باکسنگ میں بد عنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔

اسی بارے میں