ٹائيگر پٹودی، ایک بہترین کھلاڑی

منصور علی خان پٹودی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption منصور علی خان پٹودی ستر برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے

منصور علی خان پٹودی کو میں نے سب سے پہلے انیس سو پچھہتر کے کولکتہ ٹیسٹ میں دیکھا تھا اور اس وقت پٹودی اپنے ٹیسٹ کیرئر کے آخری مرحلے پر تھے۔

لیکن تب بھی چھتیس رن کی اپنی اننگز میں جس طرح سے انہوں نے اس وقت کے دنیا کے سب سے تیز گیند باز اینڈی رابرٹس اور وین برن ہولڈر کی گیندوں پر چھ چوکے لگائے تھے اسے میں ابھی بھی بھلا نہیں پایا ہوں۔

ہولڈر کی ایک شارٹ پچ گیند ان کی ٹھوڑی پر لگی تھی اور خون سے تربتر پٹودی کو میدان سے باہر جانا پڑا تھا۔

اکیس سال کی عمر میں انہیں اس وقت بھارتی ٹیم کی کپتانی دی گئی تھی جب ویسٹ انڈیز دورے کے دوران چارلی گرفتھ کی گیند پر ناری کنٹریکٹر کا سر پھٹ گیا تھا۔

اس کے بعد سے پٹودی نے چالیس ٹیسٹ میچوں میں بھارت کی کپتانی کی اور ان میں نو میچوں میں فتح حاصل کی۔ 1968 میں پہلی بار بیرونی ملک میں نیوزی لینڈ کے خلاف انہوں نے 1-3 سے بھارت کو سیریز کی جیت دلائی تھی۔

ان کے والد افتخار علی خان پٹودی آزادی سے پہلے بھارتی ٹیسٹ ٹیم کے رکن تھے۔

انیس سو اکسٹھ میں ایک کار حادثے میں پٹودی کی داہنی آنکھ میں چوٹ لگ گئی تھی۔ جس سے انہیں ایک چیز دو دو دکھائی دیتی تھیں وہ بھی چھ چھ انچ کی دوری پر۔ اس کے باوجود نہ صرف انہوں نے اس وقت کے سب سے تیز گیند بازوں فریڈی ٹرومین، ویس حال، چارلی گرفتھ اور گراہم میکنزی کو بخوبی کھیلا بلکہ چھ سنچریاں بھی بنائیں۔

انگلینڈ کے خلاف دلی میں بنائے گئے دو سو تین ناٹ آؤٹ رن ان کے کیرئر ک بہترین سکور تھا لیکن 1967 میں میلبرن کی ہری پچ پر انکی پچھہتر رنز کی اننگز کو ان کی سب سے بہترین اننگز مانا جاتا ہے۔

پچیس رن پر بھارت کے پانچ وکٹ گر چکے تھے۔ پٹودی کے گھٹنے کے نیچے کی نس ( ہیمسٹرنگ) میں چوٹ لگی ہوئی تھی اور وہ اجیت واڈیکر کے ساتھ رنرر کے طور پر میدان میں اترے۔

وہ سامنے کی طرف نہیں جھک سکتے تھے اس لیے صرف ہک، کٹ اور گلانس شاٹس کے سہارے، انہوں نے پچھہتر رن بنائے۔ اس پاری کے بارے میں مہیر باس نے ہسٹری آف انڈین کرکٹ میں لکھا تھا ’ایک آنکھ اور ایک پیر کے سہارے کھیلی گئی اننگز‘۔

ایک اچھا بلے باز ہونے کے ساتھ ساتھ پٹودی ایک شاندار بالر بھی تھے۔ کور پر کھڑے ہوکر جس طرح سے وہ گیند کے پیچھے بھاگتے تھے لگتا تھا کہ ایک چیتے کی طرح وہ اپنے شکار کا پیچھا کر رہے ہیں۔شاید اسی وجہ سے ان کا نام ٹائیگر پڑا۔

کالر اوپر کھڑا کر کے، کمزور ٹیم کے باوجود ، دنیا کی بہترین ٹیموں کے خلاف اعتماد کے ساتھ کھڑا ہونا پٹودی نے ہی ممکن کر دکھایا تھا۔