’سچن آپ کے بھگوان ہوں گے میرے نہیں‘

شعیب اختر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شعیب اختر کے مطابق سچن اچھے بلے باز ہیں لیکن بھگوان نہیں ہیں

پاکستان کے سابق فاسٹ بالر شعیب اختر نے کہا ہے کہ وہ سچن تندولکر کو ایک عظیم بلے باز تو سمجھتے ہیں لیکن وہ بھگوان نہیں۔

شعیب اختر کی کتاب ’کنٹروورشیلی یورز‘ کے اجرا کے موقع پرگزشتہ ہفتے شعیب نے ایک میچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میچ میں سچن زخمی تھے اور ان کی بالنگ سے سچن کو ڈر لگ رہا تھا۔

ان کے اس بیان پر بھارت میں شدید رد عمل ہوا۔ ہر جگہ ان کا بائیکاٹ ہونےلگا۔ کئی شہروں میں ان کے پروگرام منسوخ کر دیےگئے اور ہر طرف سے ان سے معافی مانگنے کی مانگ کی جانے لگی۔ یہاں تک کہ بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے بھی ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شعیب اختر نے سپورٹس ویب سائٹس’ کرکٹ نکسٹ ڈاٹ کام‘ کو دیےگئے ایک انٹرویو میں کہا ’بی سی سی آئی کون ہوتی ہے معافی مانگنے کے لیے کہنے والی۔ میں نے ایک چیز محسوس کی وہ کہہ دی۔ میں سچ بولنے کے لیے معافی مانگوں۔‘

شعیب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کے بیان سے ایک غیر ضروری تنازعہ پیدا کرنے کی کو ششش کی گئی ہے۔ ’اگر سچن ایک سیریز میں میری بالنگ سے ڈرا اور میں نے محسوس کیا اور کہہ دیا۔ آپ کی انا اتنی کمزور ہے کہ آپ اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ جمہوریت ہے، یہاں بولنے کی آزادی ہے تو پھر بولنے کیوں نہیں دیتے۔‘

شعیب نے کہا کہ وہ سچن کو ایک عظیم بیٹسمین مانتے ہیں لیکن ’وہ اپ کے بھگوان ہوں گے میرے بھگوان نہیں ہیں۔ اگر بھگوان کے سر میں بال لگ جاتی ہے تو اس میں برا لگنے کی کیا بات ہے۔ یہ کرکٹ ہے اس میں سب کچھ ہوتا ہے۔‘

بھارت کے سرکردہ اسپورٹس تجزیہ کار پردیپ میگزین نے شعیب کے بیان پر بھارت میں ہونے والے بیان کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ اول تو شعیب نے سچن کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کہی جو ذاتی نوعیت یا ہتک آمیز ہو۔

انہوں نے فیصل آباد کے ٹیسٹ میچ کا ذکر کیا ہے جس میں سچن کی کہنی زخمی تھی اور انہیں شعیب کی بال کھیلنے میں بظاہر مشکل پیش آ رہی تھی۔ ’سب سے زیادہ مایوس کن ری ایکشن بھارتی کرکٹ بورڈ کا ہے جس نے شعیب سے معافی مانگنے کی بات کی ہے۔ یہ شعیب کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے جس کو مسترد کیا جا سکتا ہے لیکن معافی مانگنے کی بات جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔‘

پردیپ کا کہنا ہے کہ اس طرح کا ری ایکشن انہیں لوگوں کا ہو سکتا ہے جنہوں نے شعیب کی کتاب نہیں پڑھی ہے۔ ’شعیب نے اپنی کتاب میں سچن کو ایک مہان بیٹسمین کہا ہے اور ان کی بہت تعریف کی ہے۔‘

اس تنازع میں شعیب اختر کی کتاب پس منطر میں چلی گئی لیکن کرکٹ کے شائقین کے لیے یہ کتاب بہت دلچسپ ہے۔ اس میں بہت سے دلچسپ واقعات کا ذکر ہے۔ اس میں میچ فکسنک کے بارے میں باتیں ہیں، بال ٹمپرنگ کا ذکرہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔ کرکٹ کمنٹیٹڑز نے اس کتاب کو ’جرات مندانہ‘ کہا ہے۔

شعیب اختر دنیا کے ایک بہترین فاسٹ بالرہونے کے ساتھ ساتھ اپنے کرکٹ کریئر میں کافی متنازع بھی رہے ہیں اور انہوں نے اپنی کتاب میں بھی اس سلسلے کوبرقرار رکھا ہے۔

اسی بارے میں