سپاٹ فکسنگ مقدمہ منگل سے شروع

عامر، سلمان، آصف تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگر ان کرکٹرز پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں سات سال اور دو سال کی قید ہوسکتی ہے

پاکستانی کرکٹرز سلمان بٹ، محمد عامر اور محمد آصف کے خلاف سپاٹ فکسنگ مقدمے کی سماعت منگل کو لندن میں شروع ہورہی ہے۔

ان تینوں کرکٹرز پر الزام ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر اپنے ایجنٹ مظہر مجید سے دانستہ طور نوبالز کرانے کے عوض رقم وصول کی۔

غیرقانونی رقم کی وصولی اور دھوکہ دہی کے اس مقدمے میں مظہر مجید بھی ملزم ہیں۔

اگر ان کرکٹرز پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں سات سال اور دو سال کی قید ہوسکتی ہے۔

سپاٹ فکسنگ: کب کیا ہوا

یہ اسکینڈل گزشتہ سال پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کے موقع پر اس وقت سامنے آیا تھا جب اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے اپنے ایک خفیہ رپورٹر کی کرکٹرز کے مبینہ ایجنٹ مظہر مجید کی گفتگو ریکارڈ کی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ لارڈز ٹیسٹ میں محمد آصف اور محمد عامر ان کی ہدایات کے مطابق نوبالز کرائیں گے۔

اس ٹیسٹ میچ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان سلمان بٹ تھے۔

اسی دوران لندن کی پولیس نے پاکستانی ٹیم کے ہوٹل پر چھاپہ بھی مارا تھا اور کرکٹرز کے کمروں کی تلاشی کے دوران کرنسی اور دیگر اشیا بھی قبضے میں لی تھیں جس کے بعد یہ معاملہ باقاعدہ عدالت تک جا پہنچا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ابتدا میں ان کرکٹرز کو معطل کرکے ان کے خلاف تحقیقات کرانے سے انکار کردیا تھا جس پر آئی سی سی نے خود ان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کرکٹ سے معطل کردیا۔

اس معاملے کی ایک علیحدہ تحقیقات آئی سی سی کے اینٹی کرپشن ٹربیونل نے کی اور تینوں کرکٹرز پر پابندی عائد کردی گئی۔

سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی عائد کی گئی جن میں سے پانچ سال کی معطل پابندی ہے ۔ محمد آصف کو سات سالہ پابندی جن میں سے دو سال کی معطل پابندی جبکہ محمد عامر کو پانچ سال کی پابندی کی سزا سنائی گئی۔

ان کرکٹرز نے آئی سی سی کے اس فیصلے کے خلاف کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کررکھا ہے۔

اسی بارے میں