’میچ فکسنگ میں آسٹریلوی آگے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لندن میں پاکستان کے کرکٹ کھلاڑیوں پر سپاٹ فکسنگ مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کو بتایا گیا کہ آسٹریلیا اور پاکستان کے کھلاڑی نے اپنے میچوں کو داؤ پر لگایا۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور تیز رفتار بالر محمد آصف کو رشوت دینے کے الزام کا سامنا کرنے والے جنوبی لندن کے رہائشی مظہر مجید نے عدالت کو بتایا کہ کرکٹ میں بدعنوانی اور نتائج پر شرائط لگانے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔

سوموار کو سماعت کے دوران سلمان بٹ اور محمد آصف کی مظہر مجید کے ساتھ گفتگو کی خفیہ طور پر کی گئی ریکارڈنگ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

مظہر مجید نے کہا کہ اگر ’میچ فکسنگ‘ کی بات کی جائے تو اس میں آسٹریلیا کے کھلاڑی سب سے آگے ہیں۔

استغاثہ کے وکلاء نے الزام عائد کیا ہے کہ مظہر مجید نے سلمان بٹ اور محمد آصف کے ساتھ سازش کرتے ہوئے گزشتہ سال پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان لارڈز ٹیسٹ کے کچھ حصوں میں پہلے سے طے شدہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی۔

پاکستان کے کھلاڑیوں کے خلاف لندن کی ساوتھ وارک کراؤن کورٹ میں اس مقدمے کی سماعت گزشتہ منگل کو شروع ہوئی تھی۔

مظہر مجید نے کہا کہ کرکٹ میں یہ کام برسوں سے ہو رہا ہے اور پاکستان کے کئی نامور سابق کھلاڑیوں کے نام لیے کہ انھوں نے بھی یہ کام کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ میچ فکسنگ میں بنائے گئے پیسوں میں سے پاکستانی کھلاڑیوں کو بہت کم پیسہ دیا گیا۔

اس ریکارڈنگ میں مظہر مجید نے ایک اخبار نویس کو بتایا کہ وہ پاکستان ٹیم کے ساتھ گزشتہ ڈہائی سال سے یہ کام کر رہے ہیں اور اس میں انھوں نے بہت پیسہ بنایا ہے۔

مظہر مجید نے کہا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑی میچ کے مختلف حصے بیچتے ہیں مثلاً کس حصے میں کتنے رن بنائے جائیں گے اور یوں شرطیں لگانے والے پیسے بناتے ہیں۔

مظہر مجید نے کہا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑی اس کام میں سب سے آگے ہیں اور وہ ہر میچ کی دس بریکٹ یا حصہ بناتے ہیں۔

مظہر مجید نے اخباری رپورٹر کو بتایا کہ ایک بریکٹ بنانے میں پچاس سے اسی ہزار پاونڈ لگتے ہیں جبکہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ فکس کرنے میں چار لاکھ پاونڈ، ایک روزہ میں ساڑھے چار لاکھ اور ٹیسٹ میچ کے لیے دس لاکھ پاونڈ درکار ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں