پشاور: نوجوان کرکٹر کا قتل

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

خیبر پختو نخوا کے دارالحکومت پشاور میں اتوار کے روز اغوا ہونے والے کرکٹ کھلاڑی نعمان حبیب کو قتل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق نعمان حبیب کی بوری میں بند لاش پشاور کے انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقے حیات آباد سے سوموار کی شب ملی ہے۔

پولیس حکام کی اطلاع پر کرکٹ کھلاڑی نعمان حبیب کے چھوٹے بھائی عدنان حبیب نے اپنے بڑے بھائی کی لاش کی شناخت کی۔

نعمان حبیب کے چھوٹے بھائی فرحان حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو یقین نہیں آرہا کہ ان کے بھائی کے ساتھ ایسا بھی ہوسکتا ہے کیونکہ ان کے بھائی کو صرف اورصرف کرکٹ سے ہی لگاؤ تھا۔

انتیس سالہ نعمان حبیب بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور پچھلےگیارہ سال سے کرکٹ کھیل رہے تھے۔ وہ پاکستان کی جانب سے انیس سال سے کم عمر کے کھلاڑیوں کی ٹیم کا حصہ بھی رہے تھے۔

نعمان حبیب کے قریبی دوستوں نے حیات آباد پولیس پر الزام عائد کیا ہے کے پولیس نے مقتول کے تلاش میں سرد مہری دکھائی ہے۔ انہوں نے پولیس پر نعمان حبیب کے اغوا کا رپورٹ درج نہ کرانے کا بھی الزام لگایا ہے۔

دوستوں کے مطابق اس سلسلے میں پولیس کے اعلیٰ افسران سے بھی رابطے کی کوششیں کی گئیں۔ لیکن جب اعلیٰ افسران کو بتانے کے باوجود بھی پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہ ہوئی تو مقتول کھلاڑی کے خاندان نے منگل کو عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔

بچوں کا مستقبل سنوارنے اور انہیں گاؤں کے لڑائی جھگڑوں سے دور رکھنےکی سوچ لیے نعمان حبیب کے والد کئی سال پہلے اپنے خاندان کے ہمراہ پشاور منتقل ہوگئےتھے۔

اسی بارے میں