’ریحان بٹ اور سلمان اکبر کا مستقبل نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ حنیف خان کا کہنا ہے کہ اولمپئنز ریحان بٹ اور سلمان اکبر اپنے حصے کی ہاکی کھیل چکے ہیں۔

حنیف خان کے مطابق ان دونوں کھلاڑیوں کا پاکستان ہاکی میں اب کوئی مستقبل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے جن کھلاڑیوں کو کنٹریکٹ دیے ہیں ان میں ریحان بٹ اور سلمان اکبر شامل نہیں ہیں،

دونوں کو آسٹریلیا کے دورے کے لیے اعلان کردہ انیس رکنی ٹیم میں بھی شامل نہیں کیا گیا ہے۔

ریحان بٹ اور سلمان اکبر ایشین گیمز جیتنے والی پاکستانی ٹیم میں شامل تھے تاہم اس کے بعد یہ دونوں چین میں ہونے والی پہلی ایشین چیمپئنز ٹرافی کی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

حنیف خان نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ریحان بٹ اور سلمان اکبر کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ مستقبل نوجوان باصلاحیت کھلاڑیوں کا ہے جو اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

حنیف خان نے کہا کہ بیس پچیس کھلاڑیوں کا پول بنایا گیا ہے اور کوشش یہی ہے کہ انہی میں سےحتمی ٹیم منتخب کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اب تجربے کرنے کا وقت نہیں ہے۔ کھلاڑیوں کی کارکردگی سے اندازہ ہورہا ہے کہ ٹیم کی شکل بن چکی ہے جو کمی بیشی رہ گئی ہے وہ دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

حنیف خان سے جب پوچھا گیا کہ ایک دورے میں ایک سینیئر کھلاڑی گڈ بک میں ہوتا ہے دوسرے دورے میں وہ باہر ہوجاتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی نیا ہو یا سینیئر اگر وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا وہ ٹیم میں رہے گا۔

سہیل عباس کی ٹیم میں واپسی کے بارے میں ایک سوال پر حنیف خان کا کہنا ہے کہ سہیل عباس کی جگہ جن کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا وہ ایشیا کی سطح پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے تو یورپ کی بڑی ٹیموں کے خلاف کیا دکھائیں گے لہذا سہیل عباس کو واپس لایا گیا ہے جو اپنے تجربے سے موثر ثابت ہوسکیں گے۔

چیف سلیکٹر نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ سہیل عباس یا کسی بھی سینیئر کھلاڑی کو بار بار ڈراپ کرنے اور واپس بلانے سے ان کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاررکردگی دکھانے والے کھلاڑی پر کوئی پریشر نہیں ہوتا ۔ سہیل عباس انتہائی تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور وہ انٹرنیشنل ہاکی کا پریشر سمجھتے ہیں۔

حنیف خان نے انیس رکنی ٹیم میں ایک ہی گول کیپر رکھنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آج کل تمام ہی ٹیمیں اسکواڈ میں دو کے بجائے ایک گول کیپر رکھ رہی ہیں۔ آج کی ہاکی میں گول کیپر ناخن سے لے کر سر تک خود کو اتنا ڈھانپ لیتا ہے کہ اس کے زخمی ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

اسی بارے میں