سپاٹ فکسنگ، فیصلہ اگلے ہفتے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سلمان بٹ نے اپنے آپکو کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی

لندن کی عدالت میں جاری سپاٹ فکسنگ کے مقدمےمیں دلائل کے خاتمے کے بعد جیوری نے اپنے فیصلے پر غور شروع کر دیا ہے۔

سپاٹ فکسنگ کےمقدمے میں پاکستان کےسابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف نے جرم سے انکار کیا ہے۔ سابق کپتان سلمان اور فاسٹ بولر محمد آصف نے اپنے آپکو کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ محمد عامر اور ایجنٹ مظہر مجید مقدمے کی کارروائی کے دوران غیر حاضر رہے۔

ایک برطانوی اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ نے سلمان بٹ، محمد آصف اور نوجوان کھلاڑی محمد عامر پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے جان بوجھ کر پہلے سے متعین اوورز میں نو بال پھینکے کے لیے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی تھی۔

ساؤتھ وارک کی عدالت کو بتایا گیا تھا ان کھلاڑیوں نے برطانیہ میں مقیم ایجنٹ مظہر مجید کے ساتھ مل کر انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میں میچوں کے کچھ حصوں کے بارے میں طے کیا تھا کہ ان میں کیا کرنا ہے۔

بدھ کے روز دلائل کے اختتام پر ٹرائل جج جرمی کک نے شہادتوں کے قانونی پہلوؤں کو جیوری پر واضح کرنا شروع کیا اور جیوری کو بتایا کہ فیصلے کرتے وقت جیوری فاسٹ بولر محمد عامر اور کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید کو سپاٹ فکسنگ میں ملوث تصور کرے۔

سپاٹ فکسنگ کی مقدمے کی سماعت کے بارہ رکنی جیوری بنائی گئی جن میں چھ مرد اور چھ عورتیں ہیں۔