’سلمان، آصف اور عامر نے دھوکہ دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اپنے وکیل کے ساتھ محمد عامر اور اس کے وکیل سے باقاعدہ ملاقات بھی کی:اعجاز بٹ

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر نے حقیقت چھپاکر انہیں دھوکہ دیا۔

واضح رہے کہ لندن کی عدالت نے سپاٹ فکسنگ مقدمے میں محمد آصف اور سلمان بٹ کو قصور وار قرار دیا ہے۔

اعجاز بٹ نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ محمد عامر کے پاس بہت اچھا موقع تھا کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو پہلے آئی سی سی اور پھر سکاٹ لینڈ یارڈ نے پیشکش کی تھی کہ اگر محمد عامر وعدہ معاف گواہ بن جائے تو اسے چھ ماہ یا سال بھر کی سزا دے کر چھوڑدیا جائے لیکن محمد عامر بضد رہا کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ انہوں نے اپنے وکیل کے ساتھ محمد عامر اور اس کے وکیل سے باقاعدہ ملاقات بھی کی اور اسے اس پیشکش کے بارے میں سمجھانے کی بہت کوشش کی۔اگر وہ ا سوقت ان کی بات مان لیتا تو ممکن ہے کہ وہ کھیل رہا ہوتا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نے کہا کہ جب ان کرکٹرز کا نام سپاٹ فکسنگ میں آیا تو انہوں نے تینوں کرکٹرز کو بلاکر انہیں سمجھایا کہ وہ مظہر مجید سے اپنا تعلق ختم کردیں جس پر تینوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے مظہر مجید سے اب کوئی تعلق نہیں رکھا ہے لیکن یہ تینوں جھوٹ بول رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اگر محمد عامر وعدہ معاف گواہ بن جائے تو اسے چھ ماہ یا سال بھر کی سزا دے کر چھوڑدیا جائے: اعجاز بٹ

اعجاز بٹ نے کہا کہ جب اس واقعے کے بعد وہ آئی سی سی اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کے افسران سے دبئی میں ملے تو ان افسران نے انہیں بتایا کہ سلمان بٹ محمد آصف اور محمد عامر نے مظہر مجید سے تعلق ختم نہیں کیا ہے بلکہ آئی سی سی کے انٹی کرپشن ٹریبونل کی جانب سے سزائیں ملنے کے بعد بھی وہ مظہر مجید سے رابطے میں رہے ہیں ۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ سلمان بٹ نے مظہر مجید سے فون کالز اور ایس ایم ایس کی شکل میں ایک سو چالیس بار رابطہ کیا ہے جبکہ محمد عامر نے تقریباً سو مرتبہ مظہرمجید سے رابطہ کیا اسی طرح محمد آصف نے بھی تقریباً چالیس کالز اور ایس ایم ایس کئے یہ تمام ریکارڈ آئی سی سی اور اسکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس موجود تھا۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ انہیں دکھ ہے کہ آئی سی سی ٹریبونل سے سزا ہونے کے بعد بھی تینوں کرکٹرز اس شخص سے دور نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس تمام مشکل صورتحال میں جو بھی ممکن ہوسکتا تھا کوشش کی حالانکہ آئی سی سی کے قواعد وضوابط کے تحت اس معاملے میں کرکٹرز کو خود ہی اپنا دفاع کرنا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں