پاکستان میں میچ فکسنگ تحقیقات کی تاریخ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستانی کرکٹ میں پہلی مرتبہ میچ فکسنگ کی تحقیقات کی ضرورت اس وقت محسوس ہوئی جب آسٹریلوی کرکٹرز شین وارن، مارک وا اور ٹم مے نے سابق کپتان سلیم ملک کے بارے میں یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے ان تینوں کو مبینہ طور خراب کارکردگی کے عوض رشوت کی پیشکش کی تھی۔

تینوں آسٹریلوی کرکٹرز کا کہنا تھا کہ سلیم ملک نے مبینہ طور پر یہ پیشکش اس وقت کی تھی جب 95-1994ء میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی اور ان تینوں کے مطابق اس پیشکش کا تعلق کراچی کے ٹیسٹ میچ اور راولپنڈی کے ون ڈے سے تھا۔

پاکستان نے انتہائی ڈرامائی انداز میں ٹیسٹ میچ ایک وکٹ سے جیتا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آسٹریلوی کرکٹرز کا سلیم ملک کے بارے میں یہ انکشاف پاکستان کے دورے کے بہت بعد سامنے آیا اور خود شین وارن اور مارک وا بھی ایک بک میکر سے رابطے اور اسے میچ کی مختلف معلومات فراہم کرنے کی پاداش میں آسٹریلوی کرکٹ بورڈ کی جانب سے جرمانے کی زد میں آئے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سلیم ملک پر الزامات سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کے جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپ دی تاہم آسٹریلوی کرکٹرز نے پاکستان آکر انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیا اس طرح جسٹس فخرالدین جی ابراہیم کو ان کے بیانات اور سلیم ملک پر جرح ہی پر اکتفا کرنا پڑا۔

انہوں نے اکتوبر1995 میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کو دے دی جس میں سلیم ملک پر عائد الزامات ٹھوس شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کردیے گئے۔

بعد ازاں آسٹریلوی کرکٹرز مارک ٹیلر اور مارک وا جسٹس قیوم کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے نہ صرف پاکستان آئے بلکہ کمیشن نے اپنی لیگل ٹیم کو شین وارن پر جرح کرنے کے لئے بھی آسٹریلیا بھیجا اور سلیم ملک پر میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کی پاداش میں تاحیات پابندی عائد کردی گئی۔

پاکستانی کرکٹ میں میچ فکسنگ کی دوسری تحقیقات جسٹس اعجاز یوسف کی سربراہی میں قائم تین رکنی کمیٹی نے کی جس کے دیگر دو ارکان نصرت عظیم اور میاں محمد منیر تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آسٹریلوی کرکٹرز کا سلیم ملک کے بارے میں انکشاف پاکستان کے دورے کے بہت بعد سامنے

یہ تینوں حضرات پاکستان کرکٹ بورڈ کی اس وقت کی کونسل کے اراکین تھے۔

جسٹس اعجاز یوسف نے اپنی تحقیقات کے دوران کرکٹرز اور آفیشلز وغیرہ کے بیانات سننے کے بعد اگست1998 میں اپنی 11 صفحات کی عبوری رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حوالے کردی جس میں وسیم اکرم ۔ سلیم ملک اور اعجاز احمد کے بارے میں لکھا تھا کہ ان تینوں پر سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں لہذا انہیں پاکستانی ٹیم سے فوراً الگ کردیا جائے اور آئندہ بھی ان کے سلیکشن پر غور نہ کیا جائے۔

جسٹس اعجاز یوسف نے ان کرکٹرز کے بارے میں حتمی فیصلہ تحقیقات کے مکمل ہونے تک موخر کردیا تھالیکن بعد میں یہ تحقیقات وہیں تک رہیں۔

جسٹس اعجاز یوسف کی انکوائری کمیٹی کے بارے میں جسٹس قیوم رپورٹ میں تحریر ہے کہ اس نے کچھ کھلاڑیوں کو معطل کرنے کے بارے میں کہا تھا لیکن یہ انکوائری ختم کردی گئی کیونکہ جج صاحب کے پاس اختیارات نہیں تھے اور اس میں جن کرکٹرز پر الزامات عائد کئے گئے انہیں صفائی کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔

جسٹس فخرالدین جی ابراہیم ۔جسٹس اعجاز یوسف اور جسٹس ملک محمد قیوم کے بعد جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے چوتھے جج تھے۔

انہیں آئی سی سی کے کہنے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے 1999 کے عالمی کپ میں پاکستانی ٹیم پر میچ فکسنگ اور امپائر جاوید اختر کے خلاف الزامات کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی تھی۔

بھنڈاری رپورٹ جون 2002 میں جاری کی گئی جس میں پاکستانی ٹیم کو بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف میچز میں میچ فکسنگ کے الزامات سے کلیئر کردیا گیا۔

اسی بارے میں