سپاٹ فکسنگ: پاکستانی کرکٹرز پر جرم ثابت

سلمان بٹ اور محمد آصف تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف نے صحتِ جرم سے انکار کیا تھا

لندن کی عدالت نے سپاٹ فکسنگ کیس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور بالر محمد آصف کو قصوروار قرار دے دیا ہے۔

اس مقدمے کے دیگر دو ملزمان پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر اور ان کے ایجنٹ مظہر مجید پہلے ہی اعترافِ جرم کر چکے ہیں۔

عدالت نے دونوں کھلاڑیوں کو دھوکہ دہی اور بدعنوانی کے الزامات میں مجرم قرار دیا ہے۔ سپاٹ فکسنگ میں ملوث تینوں کھلاڑیوں کو بدھ کو سزا سنائی جائے گی اور دھوکہ دہی اور بدعنوانی کے جرم میں انہیں سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

جیوری نے قریباً سترہ گھنٹے کے غور وخوص کے بعد متفقہ طور پر سلمان بٹ اور محمد آصف کو دھوکہ دہی کا مجرم قرار دیا جبکہ بارہ رکنی جیوری کے دس ارکان نے سلمان اور آصف کو بدعنوانی کے معاملے میں بھی مجرم ٹھہرایا۔

عدالت میں جاری مقدمے میں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کے کہنے پر چھبیس اور ستائیس اگست سنہ دو ہزار دس کو لارڈز ٹیسٹ کے دوران پہلے سے طے شدہ وقت پر نو بالز کروائیں۔

رواں برس چار فروری کو برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس (سی پی ایس) نے سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر اور سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید پر کرپشن اور دھوکہ دہی کی سازش کا الزام لگایا تھا اور سترہ مارچ کو سینئر ڈسٹرکٹ جج ہاورڈ رڈل نے ان کرکٹرز پر ساؤتھ وارک کراؤن عدالت میں بیس مئی سے مقدمے کی کارروائی شروع کرنے کو کہا تھا۔

اس مقدمے کے دوران سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف نے جرم سے انکار کیا اور اپنے آپ کو کو بےگناہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔

اس کے برعکس محمد عامر کے وکیل نے مقدمے کے آغاز پر ہی ان کی جانب سے بیان پڑھ کر سنایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’محمد عامر دانستہ طور پر نو بال کروانے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور مقدمے کی کارروائی کے دوران آپ سنیں گے کہ اس اٹھارہ سالہ لڑکے کو ان افراد کی جانب سے کتنے دباؤ کا سامنا رہا جن پر وہ بھروسہ کر سکتا تھا‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’وہ جانتے ہیں کہ اس کے اس عمل سے پاکستان کرکٹ کو کتنا نقصان ہوا ہے‘۔

سپاٹ فکسنگ کا معاملہ برطانوی اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ نے اپنے ایک خفیہ آپریشن کی مدد سے افشاء کیا تھا اور اخبار نے سلمان بٹ، محمد آصف اور نوجوان کھلاڑی محمد عامر پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے جان بوجھ کر پہلے سے متعین اوورز میں نو بال پھینکے کے لیے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی تھی۔

سدرک کی عدالت کو بتایا گیا تھا ان کھلاڑیوں نے برطانیہ میں مقیم ایجنٹ مظہر مجید کے ساتھ مل کر انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میں میچوں کے کچھ حصوں کے بارے میں طے کیا تھا کہ ان میں کیا کرنا ہے۔

بدھ کے روز دلائل کے اختتام پر ٹرائل جج جرمی کک نے شہادتوں کے قانونی پہلوؤں کو جیوری پر واضح کرنا شروع کیا اور جیوری کو بتایا کہ فیصلے کرتے وقت جیوری فاسٹ بولر محمد عامر اور کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید کو سپاٹ فکسنگ میں ملوث تصور کیا جائے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل آئی سی سی کا غیر جانبدار ٹربیونل نے پانچ فروری کو سپاٹ فکسنگ کے الزامات کے تحت محمد عامر پر پانچ سال، محمد آصف پر سات اور سلمان بٹ پر دس سال کی پابندی عائد کر چکا ہے اور سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد عامر نے اس سزا کے خلاف ثالثی عدالت میں اپیل بھی دائر کی ہے۔

اسی بارے میں